بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مختلف فتاوی پر مستفتی کے لیے عمل کا طریقہ کار
سوال
اگر کسی مسئلے میں ایک ہی فقہ کے علماء اور مفتیان کا اختلاف رائے ہو ، اور دونوں فتاوی بڑے ادارے کے ہوں، اور دونوں کے علم و تقویٰ پر اعتماد بھی ہو، تو ایسے میں ایک عام آدمی کس فتوے پر عمل کرے۔ ؟ اور اگر کسی خاص صورت میں احتیاط والے فتوے پر عمل کرنا مشکل اور حرج کا سبب ہو تو کیا ایسی صورت میں غیر محتاط اور اس فتوے پر عمل کرنا جو آسان ہو جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ مستفتی (عام آدمی )کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اگر مسئلہ دریافت کرنا چاہے تو اُس مفتی کی طرف رجوع کرے جس کے علم و تقوی پر اس کو اعتماد ہو،اور اگر ایک ہی مسئلہ میں دو یا دو سے زیادہ مفتیان کرام کی طرف رجوع کی ہو، اور ان کے فتاوی مختلف ہوں تو ایسی صورت میں عام آدمی کے لیے حکم یہ ہے کہ ان میں سے جو علم اور تقوی کےاعتبار سے بڑا ہو، اس کے قول پر عمل کرے اور اگر علم وتقوی میں بھی برابر کے درجہ کے ہوں، تو اس صورت میں اس کو اختیار ہے کہ جس کے قول پر عمل کرنا چاہے اس پر عمل کرے، لیکن مناسب یہ ہے کہ عبادات میں زیادہ احتیاط والے قول پر عمل کرے ،اسی طرح اگر ایک قول جواز کا ہو اور دوسرا ممانعت کا تو ممانعت والے قول کو اختیار کرے، تاہم اگر احتیاط والے قول پر عمل کرنا مشکل ہو تو جو قول آسان ہو اس پر بھی عمل کرنا جائز ہے۔
إذا اختلف عليه فتوى مفتيين، فللأصحاب فيه أوجه أحدهما: أنه يأخذ بأغلظها، فيأخذ بالحظر دون الإباحة، لأنه أحوط، ولأن الحق ثقيل."والثاني": يأخذ بأخفهما، لأنه صلى الله عليه وسلم: "بعث بالحنفية السمحة السهلة "والثالث": يجتهد في الأوثق، فيأخذ بفتوى الأعلم الأورع كما سبق شرحه، واختاره السمعاني الكبير، ونص الشافعي على مثله في القبلة."والرابع": يسأل مفتيا آخر فيعمل بفتوى من يوافقه."والخامس": يتخير فيأخذ بقول أيهما شاء وهو الصحيح عند الشيخ أبي إسحاق الشيرازي. والمختار: أن عليه أن يجتهد ويبحث عن الأرجح فيعمل به فإنه حكم التعارض وقد وقع، وليس كما سبق ذكره من الترجيح المختلف فيه عند الاستفتاء، وعند هذا ليبحث عن الأوثق، من المفتيين فيعمل بفتياه، فإنه لم يترجح أحدهما عنده استفتى آخر، وعمل بفتوى من وافقه الآخر، فإن تعذر ذلك وكان اختلافهما في الحظر والإباحة، وقبل العمل، اختار جانب الحظر وترك "جانب الإباحة"، فإنه أحوط وإن تساويا من كل وجه خيرناه بينهما، وإن أبينا التخيير في غيره، لأنه ضرورة في صورة نادرة. (أدب المفتي والمستفتي، لابن الصلاح، ص:89)
الفائدة السابعة والستون: فإن اختلف عليه مفتيان فأكثر، فهل يأخذ بأغلظ الأقوال، أو بأخفها، أو يتخير، أو يأخذ بقول الأعلم أو الأورع، أو يعدل إلى مفت آخر، فينظر من يوافق من الأولين فيعمل بالفتوى التي يوقع عليها، أو يجب عليه أن يتحرى ويبحث عن الراجح بحسبه؟ فيه سبعة مذاهب، أرجحها السابع؛ فيعمل كما يعمل عند اختلاف الطريقين أو الطبيبين أو المشيرين كما تقدم، وبالله التوفيق. (إعلام الموقعين عن رب العالمين، ج:4، ص:264)
(وإذا اختلف مفتيان) في جواب حادثة (أخذ بقول أفقههما بعد أن يكون أورعهما) سراجية. (رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب القضاء، ج:8، ص:33)
إن سأل المستفتي أكثر من مفت، فاتفقت أجوبتهم، فعليه العمل بذلك إن اطمأن إلى فتواهم.وإن اختلفوا، فللفقهاء في ذلك طريقان: فذهب جمهور الفقهاء: الحنفية، والمالكية، وبعض الحنابلة، وابن سريج والسمعاني والغزالي من الشافعية إلى أن العامي ليس مخيرا بين أقوالهم يأخذ بما شاء ويترك ما شاء، بل عليه العمل بنوع من الترجيح، ثم ذهب الأكثرون منهم إلى أن الترجيح يكون باعتقاد المستفتي في الذين أفتوه أيهم أعلم، فيأخذ بقوله، ويترك قول من عداه. قال الغزالي: الترجيح بالأعلمية واجب، لأن الخطأ ممكن بالغفلة عن دليل قاطع، وبالحكم قبل تمام الاجتهاد واستفراغ الوسع، والغلط أبعد عن الأعلم لا محالة، كالمريض إذا اختلف عليه طبيبان، فإن خالف أفضلهما عد مقصرا، ويعلم أفضل الطبيبين أو العالمين بتواتر الأخبار، وبإذعان المفضول له، وبالتسامع والقرائن دون البحث عن نفس العلم، والعامي أهل لذلك، فلا ينبغي له أن يخالف الأفضل بالتشهي...وقال الغزالي: إن تساوى المفتيان في اعتقاد المستفتي، وعجز عن الترجيح تخير، لأن هذا موضع ضرورة، وقال ابن القيم وصاحب المحصول: عليه الترجيح. (الموسوعة الفقهية الكويتية،ج:32، ص:49)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں