بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تراونئ ،نامی بیماری والے جانور کی قربانی


سوال

ہمارے علاقے میں جانوروں کو ایک بیماری لاحق ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے منہ میں تھرتھراہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات بیماری اس قدر شدید ہوتی ہے کہ جانور اچھی طرح خوراک نہیں کھا سکتا اور رفتہ رفتہ کمزور ہوتا جاتا ہے، جبکہ بعض اوقات بیماری ہلکی ہوتی ہے اور جانور کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ اس بیماری کو پشتو زبان میں'' تراونئ '' کہا جاتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے جانور کی قربانی شرعاً جائز ہے یا نہیں؟  نوٹ: ہمارے علاقے میں مویشی تاجروں کے نزدیک یہ بیماری عیب شمار ہوتی ہے۔

جواب

ہر وہ عیب جس سے جانور کی کوئی   منفعت مکمل طور پر زائل ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ، صورت مسئولہ میں  جانور کو لاحق ہونے والی بیماری اگر  اس درجہ کی ہو کہ جس سے وہ کھانے سے عاجز نہ ہوتا  ہو  بلکہ صرف اچھی طرح  خوراک کھانے میں مشکل پیش آتی ہو ، تویہ بیماری عیب شمار نہ ہوگی اور ایسے جانور کی  قربانی جائز  ہوگی،البتہ اگر  اس بیماری کی وجہ سے جانور کھانے سے عاجز ہو   یا  بالکل کمزور ہو چکا ہو تو ایسا جانور شرعاً معیوب شمار ہوگا اور اس کی قربانی جائز نہ ہوگی۔

 

وأما الهتماء وهي التي لا أسنان لها، فإن كانت ترعى وتعتلف جازت وإلا فلا، كذا في البدائع.( الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، ج:5، ص: 298)

كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع.( الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، ج:5، ص:299)


فتویٰ نمبر : 10954/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں