بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اجتماعی دعا کی شرعی حدود


سوال

1:فرائض کے بعد جہری اجتماعی دعا،اکثر مساجد میں ہرفرض نماز کے بعد امام صاحب باقاعدہ بلند آواز سے اجتماعی دعا کراتے ہیں اورمقتدی آمین کہتے ہیں، کیا فرض نماز کے بعد جہراً اجتماعی دعا کا ثبوت ہے؟اگر اصل جوازہو تو کیا اس کا دوام اورپابندی بھی مشروع ہے یا کبھی ترک کرنا بھی لازم ہے؟ 2:امام کے لیے دعا کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟ کیا مسنون عربی ادعیہ پراکتفا کیا جائے یا اردو زبان میں اجتماعی دعا کرانا بھی جائزیا مستحسن ہے؟ 3:اگرمقتدیوں میں یہ ذہن بن جائے کہ دعا امام ہی کرائے گا اورخود انفرادی دعا کا اہتمام کم ہو جائےاوراس اہتمام کی سبب عوام میں دعا نہ کرنے والے امام پرنکیر ہوتی ہو تو کیا اس کو ترک کرنا عوام کو حقیقت مسئلہ سےآگاہ کرنے کی غرض سے درست ہوگا؟ 4:جمعہ اورعیدین کے بعد طویل اجتماعی دعا کا کیا حکم ہے؟ 5:دینی مدارس سے منسلک مساجد میں ہرنماز کے بعد جہری اجتماعی دعا کو لازمی معمول کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے کیا یہ بھی عام مساجد کے حکم میں ہے یا نہیں؟ 6:ختمِ قرآن (رمضان) پر طویل اجتماعی دعا، ماہِ رمضان میں ختمِ قرآن کے موقع پر بیس تا تیس منٹ بلکہ اس سے زائد طویل اجتماعی دعا کی جاتی ہے، کیا اس طرح کی طویل اجتماعی دعا ثابت ہے؟ کیا اسے مستحب کہا جا سکتا ہے یا یہ محض مباح امر ہے؟ 7: رمضان کی طاق راتوں میں مخصوص اجتماعی دعاکی کیاحیثیت ہے؟ بعض اوقات اندھیراکرکے، آدھا گھنٹہ یا اس سے زائد اجتماعی دعا کروائی جاتی ہے۔ کیا اس خاص ہیئت اورالتزام کی کوئی اصل ہے؟ 8:خانقاہوں اورمجالسِ ذکر کے بعد اجتماعی دعا، خانقاہی مجالس یا ذکر کے اجتماعات کے اختتام پر اجتماعی دعا کو لازمی جزبنا لیا گیا ہے۔ کیا یہ التزام مشروع ہے؟اس طرح بڑے تبلیغی اجتماعات کی اجتماعی دعا،بعض دینی اجتماعات کے اختتام پرعظیم الشان اجتماعی دعا کی کیا حیثیت ہے؟ کیاصرف اس دعا میں شرکت کی نیت سے سفر کر کے دعامیں شریک ہوناجائزہے؟9:اجتماعی دعا اور انفرادی دعا کے درمیان اصولی اور فقہی فرق کیا ہے؟10:کن مواقع پر اجتماعی دعا مسنون ہے (مثلاً استسقاء وغیرہ) اور کن مواقع پر صرف جواز کے درجے میں ہے؟11:کسی مباح امر کو دوام اورالتزام کے ساتھ اختیار کر لینے سے وہ کب بدعتِ اضافیہ یا خلافِ اولیٰ کے درجے میں داخل ہوتا ہے؟

جواب

واضح رہےکہ قرآن پاک اوراحادیث مبارکہ میں دعا کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ دعا کرنا ایک مستحب عمل ہے فرض نمازیاسنتوں اورنوافل کے بعد دعا کرنااجتماعا وانفرادا دونوں طرح فی نفسہ جائز ہےجب تک اس کا التزام نہ ہو اوراس کو ضروری سمجھ کرنہ کیا جائے۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ دعا میں اصل یہ ہے کہ آہستہ آواز کے ساتھ تضرع اورزاری کے ساتھ کی جائے البتہ کبھی کبھارامام کو مقتدیوں کو تعلیم دینےکی غرض سےبلند آواز سے دعا کرنی چاہیئےلیکن ساتھ  یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرے نمازیوں کی نمازوں میں بھی خلل واقع نہ ہوجائے اورالتزام نہ ہواور نہ مقتدی جہری دعا کا مطالبہ کریں ورنہ اگراس کو ضروری سمجھا جائےاوراس کا التزام کیاجائےتو اس صورت میں یہ بدعت شمار ہو گا۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ رمضان المبارک میں تراویح کےبعد دعاکی جائےکیونکہ سلف صالحین اوراکابرین کامعمول رہاہے،تاہم نمازوترکے بعدبھی اجتماعی دعاکرناجائزہے،جب تک اس اجتماعی دعا کولازمی وضروری نہ سمجھاجائے۔ اس طرح ختم قرآن کے بعدیاجمعہ وعیدین کے بعدانفرادی یااجتماعی دعا کرنافی نفسہ جائز ہے تاہم مستحب امرپرعمل کرنا اس وقت تک موجب اجرو ثواب ہوتا ہے، جب تک اس کولازم نہ سمجھا جائےاوراس کے ترک کرنے پرنکیر بھی نہ کی جائےورنہ اگر اس کولازم سمجھا جائے اور ترک کرنے پر نکیر شروع ہو جائے تو وہ عمل بدعت بن جاتاہےاور اس کو ترک کرنا واجب ہوجاتاہے۔

1،2:امام کےلئے، ان فرض نمازوں میں جن کے بعد سنتیں ہیں، مختصردعا مانگنی چاہیئے اورجن کے بعد سنن نہیں، ان میں اپنی صواب دید کے مطابق لمبی دعاکرسکتا ہے۔ البتہ سنتوں اور نفلوں کے بعد جہراً اجتماعی دعا کا ثبوت نہ نبی کریم ﷺسےثابت ہےنہ صحابہ اور تابعین سے، نیز یہ بھی واضح ہو کہ ہرزبان میں دعاکرناجائزہےالبتہ ماثورعربی دعاؤں کوفضیلت حاصل ہے۔

3: اگر مقتدیوں میں یہ ذہن بن جائے کہ دعا امام ہی کرائے گا اورخود انفرادی دعا کا اہتمام کم ہوجائےاوراس اہتمام کی سبب عوام میں دعا نہ کرنے والےامام پرنکیرہوتی ہو تواس کو ترک کرنا عوام کو حقیقت مسئلہ سےآگاہ کرنے کی غرض سے درست ہے۔

4:جمعہ اورعیدین کے بعداجتماعی دعا کرنا جائز ہے۔

5:عام مساجد اوردینی مدارس سے منسلک مساجد کےاحکام میں کوئی فرق نہیں۔

6:ختم قرآن کےبعد اجتماعی دعا صحابہ اورتابعین سے ثابت ہےاورماہ رمضان میں اجتماعی دعاایک مستحب عمل ہے جب تک اس کا التزام نہ کیاجائے۔

7: لائٹیں بند کرکے اندھیراکرکےدعائیں کرنے کی کوئی اصل نہیں ۔

8: تبلیغی اجتماعات اورخانقاہوں میں ذکر کے حلقوں کے بعد اورنیک لوگوں کی صحبت میں دعا کرنا جائز ہےلازم نہیں نیز کسی نیک مجلس کی دعا میں شرکت کی غرض سےسفر کرکے شریک ہونابھی جائز ہے۔

9:اجتماعی اورانفرادی دعا کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ اگر ایک شخص دعا مانگےاوردیگر لوگ امین کہیں تو یہ اجتماعی ہےورنہ اگرکئی لوگ ایک جگہ بیٹھ کردعامانگیں لیکن ہرکوئی اپنی اپنی دعا میں مشغول ہو، تویہ انفرادی دعاہوگی۔

10: صلاۃ استسقاء اورعیدین کے بعد اجتماعی دعا کا ذکراحادیث مبارکہ میں موجود ہےاس کے علاوہ اجتماعی دعاکی مسنونیت وارد نہیں ،کیونکہ دعا میں افضل اخفاء ہے۔

11:کسی مباح یا مندوب عمل کو جب واجب کی طرح لازم سمجھا جائے اوراس عمل کےنہ کرنےوالوں پرنکیر شروع ہوجائے تواس وقت وہ مباح یامندوب عمل ترک کرناواجب ہوتاہے یہاں تک کہ لوگوں کی اصلاح ہوجائےاوروہ اس کے ساتھ مباح یا مندوب والامعاملہ کرنے لگ جائے۔

 

قوله تعالى: {ادعوا ربكم تضرعا وخفية} فيه الأمر بالإخفاء للدعاء. قال الحسن في هذه الآية: علمكم كيف تدعون ربكم، وقال لعبد صالح رضي دعاءه: {إذ نادى ربه نداء خفيا} وروى مبارك عن الحسن قال: "كانوا يجتهدون في الدعاء ولا يسمع إلا همسا" وروى أبو موسى الأشعري قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فسمعهم يرفعون أصواتهم فقال: "يا أيها الناس إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا" وروى سعد بن مالك أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "خير الذكر الخفي وخير الرزق ما يكفي".( أحكام القرآن للجصاص، ج:3، ص:44)

إخفاء الدعاء أفضل لأنه أبعد من الرياء وأقرب من الإخلاص وأجدر بالاستجابة. (أحكام القرآن للجصاص، ج:3، ص:58)

من أصر على أمر مندوب وجعله عزما ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر.(مرقاة المفاتيح، ج:4، ص:33)

عن حبيب بن مسلمة الفهري،.....، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يجتمع ملأ فيدعو بعضهم، ويؤمن البعض، إلا أجابهم الله.(المستدرك على الصحيحين، ج:3، ص:390)

عن أم عطية، رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج الحيض وذوات الخدور يوم العيد فأما الحيض فيعتزلن ويشهدن الخير ، ودعوة المسلمين،.....، فلما كان الحيض يخرجن لا للصلاة ، ولكن لأن يصيبهن دعوة المسلمين ، احتمل أن يكون النبي صلى الله عليه وسلم أمر الناس بالخروج من غد العيد لأن يجتمعوا فيدعون، فيصيبهم دعوتهم، لا للصلاة.( شرح معاني الآثار ، رقم الحديث:2276، ج:1، ص:387)

عن قتادة التابعي الجليل الإمام صاحب أنس رضي الله عنه، قال: كان أنس بن مالك رضي الله عنه إذا ختم القرآن جمع أهله ودعا.( الأذكار للنووي، ص:104)

و رحم اﷲ طائفة من المبتدعة في بعض أقطار الهند حیث واظبوا علی أن الإمام ومن معه یقومون بعد المکتوبة بعد قرائتهم اللهم أنت السلام و منك السلام الخ ثم إذا فرغوا من فعل السنن والنوافل یدعوالإمام عقب الفاتحة جهراً بدعاء مرةً ثانيةً والمقتدون یؤمنون علی ذلك وقدجری العمل منهم بذلك علی سبیل الالتزام والدوام حتی أن بعض العوام اعتقدوا أن الدعاء بعد السنن والنوافل باجتماع الإمام والمأمومین ضروري واجب حتی أنهم إذا وجدوا من الإمام تاخیراً لأجل اشتغاله بطویل السنن والنوافل اعترضوا علیه قائلین: إنا منتظرون للدعاء ثانیاً وهو یطیل صلاته وحتی أن متولي المساجد یجبرون الإمام الموظف علی ترویج هذا الدعاء المذکور بعد السنن والنوافل علی سبیل الالتزام، ومن لم یرض بذلك یعزلونه عن الإمامة و یطعنونه و لایصلون خلف من لایصنع بمثل صنیعهم، وأیم اﷲ! أن هذا أمر محدث في الدین …..، و أیضاً ففي ذلك من الحرج ما لایخفی وأیضاً فقد مرّ أن المندوب ینقلب مکروهاً إذا رفع عن رتبته لأن التیمن مستحب في کل شيء من أمور العبادات لکن لماخشی ابن مسعود أن یعتقدوا وجوبه أشار إلی کراهته. فکیف بمن أصرّ علی بدعة أومنکر؟… کان ذلك بدعة في الدین محرمة.(إعلاءالسنن، ج:3، ص:205)


فتویٰ نمبر : 6675/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں