بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زبان سےطلاق کےالفاظ ادا کیے بغیر طلاق کا حکم


سوال

اگرکوئی شخص زبان سےطلاق کےالفاظ ادا نہ کرےاورنہ خود طلاق کےالفاظ لکھے،بلکہ پہلےسےلکھےہوئےلفظ طلاق کے طرف اشارہ کرتےہوئےطلاق کی نیت ظاہرکرے،تو کیااس  سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ طلاق کےواقع ہونےکےلیےضروری ہےکہ کوئی شخص طلاق کےالفاظ زبان سےاداکرےیاتحریرکرے،اگرکوئی شخص صرف دل میں طلاق کےالفاظ سوچےیا طلاق کا ارادہ کرےاورزبان سےطلاق کےالفاظ نہ کہےاورنہ ہی تحریرکرےتواس سےطلاق واقع نہیں ہوتی۔اسی طرح محض لفظ طلاق کی طرف اشارہ کرتےہوئےنیت کرنےسےطلاق واقع نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگرکوئی شخص زبان سےطلاق کےالفاظ ادا نہ کرےاورنہ طلاق کےالفاظ تحریرکرے،بلکہ کسی لکھی ہوئےتحریرکی طرف اشارہ کرتےہوئےطلاق کی نیت ظاہر کرےتوطلاق واقع نہ ہوگی۔

 

والطلاق والاستثناء واليمين والنذر والإسلام والإيمان ‌حتى ‌لو ‌أجرى ‌الطلاق ‌على ‌قلبه ‌وحرك ‌لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع.(حاشية الطحطاوي على مراقى الفلاح، كتاب الصلاة، باب شروط الصلوة و اركانھا، ص:219)

وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقرأنه كتابه. (رد المحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق، ج:4، ص: 456)


فتویٰ نمبر : 7417/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں