بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مسافر حاجی کا نمازاور عید کی قربانی
سوال
میں 12 مئی کو حج کی نیت سے مکہ مکرمہ آ چکا ہوں اور یہاں 30 مئی تک قیام کروں گا، جس کے بعد میں مدینہ منورہ روانہ ہو جاؤں گا۔ میرا سوال یہ ہے کہ مکہ مکرمہ اور مناسکِ حج کے ان ایام میں میں قصر نماز پڑھوں گا یا پوری؟ اور کیا مجھ پر عید الاضحیٰ کی قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی حاجی کے مکہ مکرمہ پہنچنے سے لے کر 8 ذی الحجہ تک اس کا قیام پندرہ دن نہ بنتا ہو، تو ایسا شخص مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ سب میں مسافر ہو گا ۔ کیونکہ مقیم بننے کےلئے کسی ایک جگہ پر 15 دن مسلسل ٹھہرنے کی نیت ضروری ہے ۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی حاجی 12 مئی 2026ء بمطابق 25 ذی القعدہ مکہ مکرمہ پہنچا ہو، تو 8 ذی الحجہ (25 مئی) کو اس کا مکہ مکرمہ میں 14 دن کا قیام پورا ہوگا یعنی مکہ مکرمہ میں قیام کی مدت پندرہ دن سے کم ہوگی، اس لیے یہ شخص شرعی طور پر مکہ، منی، عرفات اور مزدلفہ سب جگہ مسافر رہے گا۔ لہذا اگر وہ اکیلے نماز پڑھتا ہو یا خود امام بن کر نماز پڑھاتا ہو تو اس پر چار رکعت والی فرض نماز میں قصر کرنا (یعنی دو رکعت پڑھنا) واجب ہوگا۔ اور حالتِ سفر میں ہونے کی وجہ سے عید الاضحیٰ کے ایام میں اس پر قربانی واجب نہ ہوگی۔
الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي، ج: 7، ص: 154)
(أو) نوى (فيه لكن في غير صالح) أو كنحو جزيرة أو نوى فيه لكن (بموضعين مستقلين كمكة ومنى) فلو دخل الحاج مكة أيام العشر لم تصح نيته لانه يخرج إلى منى وعرفة فصار كنية الاقامة في غير موضعها۔ قال ابن عابدين تحته: (قوله بموضعين مستقلين) لا فرق بين المصرين والقريتين والمصر والقرية بحر. (رد المحتار على الدر المختار، ج:2، ص: 606)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں