بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سونے کو ادھار زیادہ قیمت پرفروخت کرنا


سوال

اگر کوئی شخص سونابازار سے نقد خرید کر کسی دوسرے شخص کے ہاتھ ادھارزیادہ قیمت میں فروخت کرے ،ادئیگی کی میعاد طے ہو،رقم بھی متعین ہو، تو کیا شرعا یہ جائز ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی چیز نقد خرید لی جائےتو قبضہ کے بعد اس کو ادھار زیادہ قیمت پر بیچناجائز ہے ۔نیز آج کل کرنسی نوٹوں کی حیثیت ثمن عرفی کی ہے،اس لیے اس سے سونے ،چاندی کی ادھار بیع جائز ہے،بشرطیکہ مجلس میں کسی ایک عوض پر قبضہ مکمل ہو۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص سونا کو نقد خرید کر قبضہ کے بعد دوسرے شخص پر ادھار زیادہ قیمت میں فروخت کرے ،تو یہ جائز ہے،بشرطیکہ ادائیگی کی مدت متعین کی جائے اور تاخیر پرجرمانہ کی کوئی شرط لاگو نہ کی جائے۔

 

 لأن للأجل شبها بالمبيع ألا يرى أنه يزاد فی الثمن لأجل الأجل۔(الھدایۃ،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج:3،ص:78)


فتویٰ نمبر : 4067/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں