بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
ملکی قرضہ کی وجہ سے قربانی کا حکم
سوال
میں بحیثیت پاکستانی آئی ایم ایف کا 2لاکھ 50 ہزارمقروض ہوں اور ہم گھر میں 3 افراد ہیں مطلب میری والدہ، میں اور میری اہلیہ اس طرح صرف میرے گھر کے تین افراد آئی ایم ایف کے سات لاکھ پچاس ہزار کے قرضدار ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ہم پر قربانی فرض ہے، اس طرح پورے ملک کا ہر فرد آئی ایم ایف کا قرض دار ہے کیا ان پر قربانی فرض ہے؟ اور ایک سوال یہ بھی پوچھنا ہے کہ اگر اس قرض کے ساتھ بندہ مر جائے تو پوچھ گچھ تو نہیں ہوگی؟ کیونکہ حکم ہے اگر ہو سکے تو مرنے سے پہلے اپنا قرض اتار دو۔
جواب
واضح رہے کہ انسان کے ذمہ وہ قرض لازم اور واجب الاداء ہوتا ہے جو اس نے خود لیا ہو۔ حکومت یا ریاست عالمی مالیاتی اداروں یا بینکوں سے جب قرض لیتی ہےتو عام آدمی نہ اس معاملے میں براہ راست فریق ہوتا ہے اور نہ اس قرض کے حصول میں اس کی رضامندی یا عملی شرکت شامل ہوتی ہے اس وجہ سے اس کی ادائیگی حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے افراد کی نہیں ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا یہ کہنا کہ حکومتی قرضہ کی وجہ سے ہر پاکستانی ڈھائی لاکھ کا مقروض ہے معاشی اندازے کے لحاظ سے تو کہا جاسکتا ہے مگر شرعی اعتبارسے کوئی شہری اس رقم کا مقروض شمار نہیں سمجھا جائے گا اس بناء پر اگر کوئی شخص نصاب کا مالک ہواور اس پر ایسا ذاتی قرض نہ ہو جو نصاب کو ختم یا کم کردے، تو اس پر قربانی واجب ہوگی اور ملکی قرض کو نصاب سے منھا نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح یہ قرض چونکہ ہرآدمی پر ذاتی طور پر واجب نہیں ہوتا اس وجہ سے اگر کوئی شخص اس قرض کے ہوتے ہوئے وفات پا جائے تو آخرت میں اس پر مواخذہ نہیں ہوگا۔
(أما) ركنه فهو الإيجاب، والقبول، والإيجاب قول المقرض: أقرضتك هذا الشيء، أو خذ هذا الشيء قرضا، ونحو ذلك، والقبول هو أن يقول المستقرض: استقرضت، أو قبلت، أو رضيت، أو ما يجري هذا المجرى.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب القرض، ج:7، ص: 394)
(وأما) الذي يرجع إلى المقرض: فمنهاالقبض؛ لأن القرض هو القطع في اللغة، سمي هذا العقد قرضا لما فيه من قطع طائفة من ماله، وذلك بالتسليم إلى المستقرض؛ فكان مأخذ الاسم دليلا على اعتبار هذا الشرط.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب القرض، ج:7، ص:395)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں