بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسے کے اساتذہ کو قربانی کا گوشت کھلانا


سوال

 اگر کسی مدرسے کے اساتذہ کا کھانا اُن کی تنخواہ سے ہو، تو اُن کو مدرسے میں موجود قربانی کے گوشت میں سے کھلانا كيسا ہے؟

 

جواب

واضح رہے کہ قربانی کا گوشت آدمی خود بھی کھا سکتا ہے، اس کو صدقہ اور ہبہ بھی کرسکتا ہے۔ اور جس شخص پر صدقہ یا ہبہ کیا  جائے وہ اس کا مالک بنتا ہے، اس کے بعد وہ اپنی مرضی سےاستعمال  کرسکتا ہے۔

صورتِ  مسئولہ کے مطابق  جب کسی مدرسے کو قربانی کا گوشت ہبہ یا صدقہ کیا گیا ہو، تو مدرسے کے طلبا کے ساتھ ساتھ  مدرسے کے  منتظمین اس کو خود بھی کھا سکتے ہیں اور مدرسے کے ان اساتذہ کو بھی کھلا سکتے ہیں جن کا کھانا تنخواہ سے ہو۔

 

ويطعم الفقير والغني جميعا؛ لكون الكل أضياف الله تعالى - عز شأنه - في هذه الأيام وله أن يهبه منهما جميعا. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب التضحیة، ج:6، ص:331)

ويستحب أن يأكل من أضحيته ويطعم منها غيره، والأفضل أن يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقاربه وأصدقائه، ويدخر الثلث، ويطعم الغني والفقير جميعا، كذا في البدائع. (الفتاوى الهندية، کتاب الأضحية، ج:5، 346)

أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الهبة، ج:8، ص:115)


فتویٰ نمبر : 10951/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں