بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آنکھوں میں ٹیڑھے پن والے جانور کی قربانی


سوال

اگر کسی  جانور کی آنکھوں میں ٹیڑھا پن ہو ، تو کیا ایسے جانور کی قربانی کرنا جائز ہے یا نہیں؟

 

جواب

فقہاء کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ عیب جس سے جانور کی  کوئی منفعت یا خوبصورتی بالکل ختم ہوجائے تو ایسے جانور کی قربانی شرعا جائز نہیں اگرعیب اس طرح کا نہ ہو توجائز ہوگی۔

  صور ت مسئولہ کے مطابق  جانوروں  کی  آنکھوں میں ٹیڑھا پن ہونا ایسا عیب نہیں ہے جس سے اس کی منفعت یاخوبصورتی بالکل ختم ہوجائے، لہذا آنکھوں میں ٹیڑھے پن والے جانور کی قربانی جائز ہے۔

 

ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (الفتاوی الهندية، كتاب الاضحية ، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:299)

وتجوز الحولاء: ما في عينها حول. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الاضحية، ج:9، ص:470)


فتویٰ نمبر : 10961/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں