بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گھر کی مشترکہ رقم سے بیوی بچوں کے اخراجات پوری کرنا


سوال

ایک بھائی اپنے حقیقی بھائی کو ہر ماہ گھریلو اخراجات کی مد میں ایک متعین رقم بھیجتا ہے۔ رقم وصول کرنے والا بھائی اس رقم کو مشترکہ مکان کے روزمرہ کے اخراجات پرخرچ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اسی رقم میں سے اپنی زوجہ اور اولاد کا خرچہ بھی ادا کرتا ہے۔ مزید برآں موصوف مقروض بھی ہے، چنانچہ اپنے ذمہ واجب الادا قرض کو بھی اسی رقم سے بتدریج ادا کرتا ہے۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے وصول کنندہ بھائی کا دی گئی رقم کو مذکورہ بالا تینوں مدات یعنی مشترکہ گھریلو ضروریات، اہل و عیال کا خرچ اور ذاتی قرض کی ادائیگی میں صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مشترکہ خاندانی نظام میں جب بعض بھائی محنت مزدوری کرتے ہوں اور بعض گھریلو انتظامات چلاتے ہوں، تو جو بھائی محنت مزدوری کرتے ہیں ان کی طرف سے اگر عرفاً اس بات کی اجازت ہو کہ گھریلو انتظامات چلانے والا بھائی گھر کے اخراجات کی مد میں بھیجی گئی رقم سے اپنی ضروریات میں مناسب حد تک رقم خرچ کر سکتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اس رقم سے اپنے ذاتی یا اپنے اہل وعیال کے اخراجات کر سکتا ہے۔ لیکن اگر نہ صراحتاً اس کی اجازت ہو اور نہ عرفاً و دلالتاً تو پھر ذاتی نوعیت کے اخراجات جیسے اپنے اہل و عیال کے مخصوص خرچ اور ذاتی قرض کی ادائیگی اس رقم سے جائز نہ ہوگی۔

 

 اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز.فأجاب بأنه بينهما سوية...ولو اختلفوا في العمل والرأي. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الشركة،ج:4،ص:325)


فتویٰ نمبر : 4072/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں