بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دماغی کمزور پر قربانی کا حکم


سوال

میری ایک بہن ہے جو کہ صاحب نصاب ہےجس کی عمر تقریبا ًپچیس سال ہے لیکن وہ دماغی طور پر معذور (کمزور)ہے ۔ایسی صورت میں کیا ان پر قربانی کرنا واجب ہے؟

جواب

قربانی ہر اس مسلمان ،مقیم عاقل،بالغ اور صاحب نصاب پر واجب ہوتی ہے جس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی یا چاندی کے نصاب کے بقدر ایسا سامان موجود ہو جو اس شخص کے حاجات اصلیہ اور قرض سے زائد ہو۔ 

صورت مسئولہ میں سائل کی بہن اگرچہ صاحب نصاب ہے لیکن دماغی طور پر معذور ہونے کی وجہ سے اس پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے۔

 

وللوصي في قول أبي حنيفةرحمه الله تعالى أن يضحي من مال الصغير قياسا على صدقة الفطر۔۔۔ كذا في فتاوى قاضي خان. والأصح أنه لا يجب ذلك وليس له أن يفعله من ماله، كذا في المحيط۔۔۔والمعتوه والمجنون في هذا بمنزلة الصبي. (الهندية،الباب الأول في تفسيرالأضحيةوركنها، ج:5، ص:338)


فتویٰ نمبر : 10960/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں