بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بغیر ضرورت کے حیلہ تملیک کرنا


سوال

زید جو کہ صاحبِ نصاب ہے اس نے کسی شخص سے زکوٰۃ وصول کی، پھر اس نے وہ رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو دے کر حیلہ تملیک کیا تاکہ اسے اپنے استعمال میں لا سکے۔ یہ سارا عمل زکوٰۃ دینے والے (مزکی) کو خبر دیے بغیر کیا گیا۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ: کیا مزکی کی اطلاع کے بغیر اس طرح حیلہ تملیک کرنا شرعاً معتبر ہے؟ کیا اس عمل کے بعد اب وہ رقم زید کے لیے اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے؟ کیا اس صورت میں اصل مالک کی زکوٰۃ ادا ہوگئی؟

جواب

واضح رہے کہ حیلۂ تملیک کرنے کی شریعت میں انتہائی مجبوری کی صورت میں اجازت دی گئی ہے، بلا ضرورت حیلۂ تملیک کرنا مستحقین زکوۃ کی حق تلفی کی وجہ سے مکروہِ تحریمی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں زید جو کہ صاحب نصاب ہے اس کا زکوۃ کی رقم اپنے استعمال میں لانے کے لئے حیلہ تملیک کرنا فقراء کی حق تلفی کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے، تاہم اگر مستحق کو ملکیتًا زکوۃ دی گئی تھی اور اس نے اپنی مرضی سے زید کو ہبہ کی ہو، تو مزکی کی زکوۃ ادا شمار ہوگی۔

 

وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب... قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير...وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مآلا. (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکوة، جلد:2، ص:284)


فتویٰ نمبر : 10949/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں