بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رہائش کے لیے خریدے گئے گھر کی مالیت میں قربانی


سوال

ایک شخص ایک گھر میں رہتا ہے اور اس نے دوسرا گھر اپنے اور اپنے بچوں کی رہائش اور استعمال کے لیے دو سال پہلے خریدا ہے، لیکن تاحال وہ گھر خالی پڑا ہے اور اس میں کوئی رہائش اختیار نہیں کی گئی اور نہ کسی کو کرایہ پر دیا گیا ہے۔ کیا اس گھر کی مالیت نصابِ قربانی میں شمار ہوگی؟ نیز کیا اس کی وجہ سے اس شخص پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

قربانی ہر اس، مسلمان، مقیم، اور صاحب نصاب پر واجب ہوتی ہے، جس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی یا چاندی کے نصاب کے بقدر ایسا سامان موجود ہو جو اس شخص کے حاجات اصلیہ اور قرض سے زائد ہو، تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی۔ حاجاتِ اصلیہ سے مراد  ضرورت کی اشیاء ہیں، جیسے رہائشی مکان، استعمال کے کپڑے، گھریلو سامان اور ضرورت کی سواری وغیرہ۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اس شخص نے اپنے اور اپنے بچوں کی رہائش اور استعمال کے لیے جو دوسرا  گھر خریدا ہے، لیکن دو سال سے وہ گھر خالی پڑا ہے اور اس میں کوئی رہائش اختیار نہیں کی گئی اور نہ کسی کو کرایہ پر دیا گیا ہے تو وہ حاجات اصلیہ میں نہیں آتا اس وجہ سے اس گھر کی مالیت نصاب قربانی میں شمار ہوگی چنانچہ اگر اس گھر کی مجموعی قیمت قربانی کے نصاب تک پہنچتی ہو تو پھر بھی اس شخص پر قربانی واجب ہوگی۔

 

(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة ۔۔۔ والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها.( الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الأول، ج:5، ص:292)

صدقة الفطر واجبة على الحر المسلم إذا كان مالكا لمقدار النصاب فاضلا عن مسكنه وثيابه وأثاثه وفرسه وسلاحه وعبيده (إذا كان مالكًا لمقدار النصاب) من أي مال كان حال كون النصاب (فاضلًا عن مسكنه) حتى لو كان له داران، دار يسكنها، والدار الأخرى لا يسكنها يؤاجرها أو لا يؤاجراها، تعتبر قيمتها حتى لو كانت قيمتها مائتي درهم تجب عليه صدقة الفطر، وكذلك لوكانت له دار واحد يسكنها ويفضل عن سكناه شيء فتعتبر قيمة الفاضل(و ثيابه و أثاثه و فرسه و سلاحه و عبيده) كذلك في هذه الأشياء إن فضل عنه شيء تعتبر قيمة الفاضل. )البناية شرح الهدية،کتاب الزکاة، باب صدقة الفطر، ج:3، ص:481)

والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه. )الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:189)

وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)۔

قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الأضحية، ج:6، ص:312)


فتویٰ نمبر : 10943/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں