بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
قربانی کے وجوب میں نصاب کامعیار
سوال
ایک شخص کا میڈیکل سٹور ہےاس میں تقریباً پانچ لاکھ 500000روپے کی دوائیاں ہیں لیکن ان دوائیوں کےلئےاس نے اپنی ہمشیرہ سےسونا قرض پرلیاتھاجس کی مالیت 500000کی تھی تو کیا اس بندے پرقربانی واجب ہوگی نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے ہراس شخص پر قربانی واجب ہوتی ہے جو قربانی كےدنوں میں نصاب کامالک ہویعنی ساڑھے باون تولے چاندی یاساڑھے سات تولےسونے یا ان میں سےکسی ایک نصاب کے بقدرنقد رقم یا ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہو،البتہ اگرکسی پراتنا قرض ہوکہ اگرمملوکہ مال میں سےاس کو منھا کیا جائے تومقدار نصاب ختم ہوجائےتوپھرقربانی واجب نہیں ہوگی۔
صورت مسئولہ کےمطابق جب مذکورہ شخص پر500000 پانچ لاکھ روپےقرض ہےتواس کی ملکیت میں موجود مال تجارت، نقدی اورضروریات اصلیہ سے زائد مال کی مجموعی مقدار معلوم کرکےاس سے قرض منہا کردے اگربقیہ مقدارنصاب کے بقدرباقی رہے توقربانی واجب ہوگی ورنہ نہیں۔
الغنى أنواع ثلاثة أحدها الغنى الذي يتعلق به وجوب الزكاة وهو أن يملك نصابا من المال الفاضل عن الحاجة الموصوف بالنماء والزيادة إما بالإسامة أو التجارة والثاني الغنى الذي يتعلق به حرمان الصدقة ويتعلق به وجوب صدقة الفطر والأضحية دون وجوب الزكاة وهو أن يملك من الأموال الفاضلة عن حوائجه ما تبلغ قيمته مائتي درهم بأن كان له ثياب وفرش ودور وحوانيت ودواب زيادة على ما يحتاج إليه للابتذال لا للتجارة والإسامة.(تحفة الفقهاء،كتاب الزكوة، باب من يوضع فيه الصدقة، ج:1، ص:301)
ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب. (الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية، الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها، ج:5، ص:293،92)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں