بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا


سوال

اگر کسی شخص کے نکاح میں ایک عورت ہو تو کیا وہ اس عورت کی رضاعی بہن سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی شخص کے لیے بیک وقت دو حقیقی بہنوں کو یا رضاعی بہنوں  کو  نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہو تو جب تک وہ اس کے نکاح میں موجود ہو اس وقت تک اس کی رضاعی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا ۔

 

قال اللہ تعالی:﴿وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾.(سورۃ النساء،آیت:23)

وأما الجمع بين ذوات الأرحام فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع.( الفتاوى الهندية، کتاب النکاح، الباب الثالث فی بیان المحرمات، القسم الرابع المحرمات بالجمع، ج:1، ص:343)


فتویٰ نمبر : 7412/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں