بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیچی گئی زمین میں مستحق نکل آئے تو قیمت کی واپسی


سوال

ایک شخص نے دس سال پہلے دو جریب زمین خریدی تھی اورعقد 9 لاکھ پاکستانی روپے پر ہوا تھا۔ اس وقت مشتری امارات میں تھا اور اس نے بائع کو تیس ہزار درہم بھیجے تھے، جس سے اس وقت پاکستانی نو لاکھ روپےبنتے تھے، لیکن زمین کا انتقال اور حوالگی اس وقت نہیں ہوئی تھی، اب اس زمین میں کوئی اور مستحق نکلا، اس وجہ سے مشتری وہ پہلا والا عقد کو فسخ کرنا چاہتا ہے، اب مشتری کہتا ہے کہ میں نے تمہیں تیس ہزار درہم بھیجے تھے لہذا تم  مجھے تیس ہزار دوگے، اور بائع کہتا ہے کہ نہیں میں تم کو تیس ہزار درہم کی اس وقت کی قیمت دوں  گا، اب کیا بائع تیس ہزار درہم یا اس وقت کی قیمت یعنی نو لاکھ پاکستانی روپے واپس کرے گا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو کوئی چیز فروخت کرے اور ثمن کسی ایک کرنسی میں متعین کیا جائے، پھر بائع اپنی رضامندی سے ثمن دوسری کرنسی میں وصول کرلے، اس کے بعد مبیع میں کوئی مستحق نکل آئے ، تو ایسی صورت میں اگر دونوں فریق باہمی رضامندی سے اسی ادا کردہ کرنسی کی واپسی پر متفق ہوجائیں تو صحيح، ورنہ شرعاً بائع پر وہی کرنسی واپس کرنا لازم ہوگا جس کرنسی میں عقدِ بیع منعقد ہوا تھا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ اگر واقعتاً زمین کی بیع نو لاکھ پاکستانی روپے کے عوض ہوئی تھی، لیکن مشتری نے تیس ہزار درہم بھیجے جو بائع نو لاکھ روپے کے بدلے میں وصول کیے بعد میں زمین میں کوئی اور مستحق نکل آیا تو شرعاً بائع پر نو لاکھ پاکستانی روپے (جس پر عقدِ بیع ہوا تھا)، واپس کرنا لازم ہوں گے لہذا اس سے تیس ہزار درہم کا مطالبہ جائز نہیں۔

 

استفيد من التعريف أن المعتبر ما وقع عليه العقد الأول دون ما وقع عوضا عنه، فلو اشترى بعشرة دراهم فدفع عنها دينارا أو ثوبا قيمته عشرة أو أقل أو أكثر فرأس المال العشرة لا الدينار والثوب؛ لأن وجوبه بعقد آخر وهو الاستبدال. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،باب المرابحة و التولية، ج:5، ص:134)


فتویٰ نمبر : 4065/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں