بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میڈیکل ریپ کا کمپنی کے سمپلز بیچنا


سوال

میڈیکل ریپ لوگوں کو کمپنی کی طرف سے سمپلز (دواؤں کے نمونے ) آتے ہیں جس پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ اس کی فروخت منع ہے اور یہ منع حکومت پاکستان کے ڈرگ ایکٹ کے تحت ہے۔ مطلب کمپنی کے نمائندے بغیر لائسنس کے دوائیں نہیں بیچ سکتے، یعنی اگر آپ پاکستان میں دوائیں بیچیں گے تو اس کے لئے لائسنس کا ہونا ضروری ہے، اور میڈیکل ریپ جو کہ کمپنی کا نمائندہ ہوتا ہے اس کے ساتھ لائسنس نہیں ہوتاوہ دواؤں کے نمونے صرف ڈاکٹر کو دکھانے کے لیے ہوتے ہیں۔ اب یہ سمپلز کمپنی کی جانب سے میڈیکل ریپ کو ملتے ہیں اور کمپنی سے ہدایات یہ ہوتی ہیں کہ آپ نے کمپنی کا ٹارگٹ پورا کرنا ہے ان سمپلز کو آپ اپنے طریقے سے تقسیم کریں، آپ پر دباؤ نہیں کہ کسی کو دے رہے ہو یا نہیں۔ نیز میڈیکل ریپ اپنے منیجر، جو اس سے اونچے عہدے پر ہوتا ہے کو ہر بات میں جواب دہ ہوتا ہے۔ اب اگر اس کا منیجر اس کو کہہ دے کہ یہ سمپلز اپنے لئے بیچ دو تو کیا اس کے لئےان سمپلز کو  بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ سمپلز میڈیکل ریپ کی ملکیت شمار ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ کمپنی اس کو دیتی ہے اور بس پھر پوچھتی نہیں کہ تم نے اس کا کیا کیا۔ واضح رہے کہ یہ آج کل یہ ایک اچھا خاصا کاروبار ہے۔ اور اس میں مریض کےلئے بھی فائدہ ہے کہ اس کو وہی دوائیں جو مارکیٹ میں ایک ریٹ پر ہوتی ہیں یہ سمپلز اس کو آدھے قیمت پر ملتی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ مالک کی طرف سے وکیل کو جس مقصد کے لیے کوئی چیز دے دی جائے، تو امانت داری کے ساتھ اسی مقصد میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کمپنی کی طرف سے میڈیکل ریپ کو دیے جانے والے سمپلز پر واضح طو ر پر لکھا ہو کہ'' فروخت کے لیے نہیں'' اور کمپنی ان نمونوں کو صرف تشہیر اور ڈاکٹر کو دکھانے کی غرض سے دیتی ہو، تو ایسی صورت میں میڈیکل ریپ کا ان سمپلز کو بیچنا  جائز نہیں،اس کی آمدنی حرام ہوگی۔ اگر چہ منیجر اس کی اجازت دے کیونکہ منیجر کمپنی کی پالیسی کا پابند  ہوتا ہے، اسے ازخود کمپنی کی پالیسی میں تبدیلی کا  اختیار حاصل نہیں۔

 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.( سنن أبي داود، كتاب البيوع، ج:3، ص:290)

ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب النكاح، فصل بيان شرائط الجواز والنفاذ، ج:2، ص:234)


فتویٰ نمبر : 4071/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں