بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
بے نمازی کی سزا سے متعلق ایک روایت کی تحقیق
سوال
ایک رسالہ'' ہمارے تین گناہ ''انٹر نیٹ پر موجود ہے۔اس میں ایک روایت نقل کی گئی ہے ،جس کی سند موجود نہیں۔ روایت یہ ہے کہ قیامت کے دن جہنم سے ایک جانور نکلے گا جس کا نام ''حریش ''ہوگا، اور وہ چند لوگوں جیسے :بے نمازی ،سود خوروغیرہ کو اپنے پیٹ کے اندر کرکے جہنم میں لے جائے گا۔ یہ روایت دقائق الاخبار نامی کتاب سے نقل کی گئی ہے۔احقر نے اصل مصدر کی طرف رجوع کیا تو وہاں بھی یہ روایت بلا سند صفحہ 38پر مذکور ملی ۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس حدیث کی تحقیق فرما کر مشکور فرما ئیے۔
جواب
واضح رہے کہ محدثین کے نزدیک حدیث کی صحت یا ضعف کا دارومدار سند پر ہوتا ہے اس وجہ سے اگر کوئی روایت سند کے بغیر ذکر ہو تو یہ اس کے غیر معتبر ہونے کی دلیل شمار ہوتی ہے، سوال میں مذکور حدیث اگر چہ دقائق الاخبار نامی کتاب میں مذکور ہے ، تاہم وہاں یہ بلا سند نقل کی گئی ہے۔ اور یہ کتاب فن حدیث کی معتبر کتاب نہیں، جب کہ تلاش و جستجوکے باجود یہ روایت کسی دوسری معتبر حدیث کی کتاب میں نہیں مل سکی، لہذا جب تک اس کی معتبر سند اور حوالہ موجود نہ ہو تب تک اس روایت کو حدیث کہہ کر نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہوئے آگے بیان کرنے سے احتراز ضروری ہے۔
عَنْ الْمُغِيرَةِ رضي الله عنه قَالَ:سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.( صحيح البخاري،كتاب الجنائز، باب ما يكره من النياحة على الميت، ج:1، ص:434)
عبدان بن عثمان يقول: سمعت عبد الله بن المبارك يقول: الإسناد من الدين، ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء.( صحيح مسلم، باب بيان أن الإسناد من الدين، ج:1، ص:12)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں