بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اضحیہ کی ہڈیوں کوفروخت کرنا


سوال

عید الاضحٰی کے موقع پر اضحیہ ہو جائے، پھر جب اضحیہ کے دن ختم ہو جائیں ،تو اس کی ہڈیاں باقی رہتی ہیں،  اس کوفروخت کرنا شرعاً کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی  محض اللہ کی رضا کے لیے ہوتی ہے ،اس لیے قربانی کے کسی حصے کو مال کے حصول کا ذریعہ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق گوشت استعمال کرنے کےبعد جو ہڈیا ں باقی رہتی ہیں ،قربانی کرنے والے کے لیے اس کا بیچنا جائز نہیں ہے ، البتہ قربانی کرنے والے نےاگرگوشت یا ہڈیاں کسی کو ہبہ کر دیں ،تو لینے والا اس کو بیچ سکتا ہے۔  

 

ولا يحل بيع جلدها وشحمها ولحمها وأطرافها ورأسها وصوفها وشعرها ووبرها ولبنها الذي يحلبه منها بعد ذبحها۔۔۔   فإن باع شيئا من ذلك نفذ عند أبي حنيفة ومحمدوعند أبي يوسف لا ينفذ لما ذكرنا فيما قبل الذبح ويتصدق بثمنه۔(بدائع الصنائع،كتاب التضحیة،فصل فيما يستحب قبل الاضحية،ج:5،ص:81)

(فإن) (بيع اللحم أو الجلد به) أي بمستهلك (أو بدراهم) (تصدق بثمنه)۔۔۔قولہ(تصدق بثمنہ) أي وبالدراهم فيما لو أبدله بها۔(الدرالمختارمع رد المحتار،کتاب الاضحیۃ،ج:6،ص:328)


فتویٰ نمبر : 10946/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں