بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مال مضاربت میں نقصان کی ضمان کاحکم


سوال

میں نے اپنے بھائی کے ساتھ عقدِ مضاربت کیا، جس میں میں خود 'مضارب' (کام کرنے والا) تھا اورمیرا بھائی 'رب المال' (سرمایہ کاری کرنے والا) تھا۔ اس شرکت کی تفصیل درج ذیل ہے:1۔ کاروبار کے لیے کل پچیس لاکھ (25,00,000) روپے کا سرمایہ طے پایا تھا۔ 2۔ بھائی (رب المال) نے کچھ سونا میرے حوالے کیا کہ اسے فروخت کر کے نقد رقم حاصل کی جائے۔ میں نے وہ سونا فروخت کر کے نقدی بنائی۔ 3۔ بقیہ رقم بھائی نے دبئی سے ہنڈی کے ذریعےارسال کی، یوں پچیس لاکھ روپے کی رقم مکمل ہوگئی۔ 4۔ اس کل رقم میں سے ایک لاکھ روپے مجھے ذاتی اخراجات کے لیے دیے گئے، جبکہ باقی رقم کاروبارمیں لگی۔5۔ کچھ عرصہ بعد کاروبارمیں نقصان ہو گیا اورتمام سرمایہ ضائع ہوگیا۔ 6۔ میں نے اخلاقی طور پر بھائی کو یقین دہانی کرائی کہ آپ کا سرمایہ میرے ذمہ قرض ہے اورمیں اسے ادا کرنے کا پابند رہوں گا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ:مذکورہ صورتِ حال میں شرعی اعتبار سے مجھ پر بھائی کو سونا(جو ابتدا میں دیا گیا تھا) واپس کرنا لازم ہے یا اتنی رقم (روپے) واپس کرنا لازم ہے جو سونا بیچ کرحاصل ہوئی تھی اور ہنڈی کے ذریعے وصول ہوئی تھی؟ نیزکیا مضاربت میں نقصان کی صورت میں مضارب (کارکن) پرسرمایے کی واپسی کی ذمہ داری ڈالنا شرعاً درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکوئی شخص کسی دوسرے کو نقد سرمایہ یاایسا سامان(جس کو بیچ کرنقد سرمایہ حاصل کیا جاسکے) اس شرط کے ساتھ دےدے کہ تم ان  پیسوں سے  کاروبار کرو اورکماؤ،جتنا نفع ہوجائے اس میں دونوں شریک ہونگے،تواس  کو مضاربت کہاجاتاہے۔ سرمایہ دینے والے کو''رب المال'' اورعمل کرنے والےکو''مضارب''کہاجاتاہے اور اس کےاحکام یہ ہیں کہ مستقبل میں نفع میں دونوں شریک ہونگےاوراگر نقصان ہوا تواس کو سب سے پہلے منافع سے پورا کیاجائےگااوراگرمنافع سے پورا نہ ہوسکے تو پھرنقصان رب المال کے راس المال سےپوراکیاجائے گا اورمضارب بری ہوگا البتہ مضارب پرمال مضاربت میں تعدی اورغفلت یارب المال کے شرائط کی مخالفت کرنے کی صورت میں ضمان آتا ہے۔

صورت مسئولہ کےمطابق نقصان ہونے کی صورت میں اگرمال مضاربت میں مضارب کی تعدی ،غفلت یارب المال کےطرف سےعائد کردہ شرائط کی مخالفت کےبغیرنقصان ہوا ہوتومضارب پرشرعاًکوئی ضمان لازم نہیں، البتہ اگروہ اپنی رضامندی سے رب المال کونقصان دینا چاہےتواس کو اختیار ہے،سونایااس کی مالیت کچھ بھی دےسکتا ہے۔

 

المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه قبضه بأمر مالكه لا على وجه البدل والوثيقة، وهو وكيل فيه لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه، وإذا ربح فهو شريك فيه لتملكه جزءا من المال بعمله، فإذا فسدت ظهرت الإجارة حتى استوجب العامل أجر مثله، وإذا خالف كان غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره.(الهداية،ج:3، ص:200)

المضاربة هي عقد شركة في الربح بمال من رجل وعمل من آخر. وهي إيداع أولا، وتوكيل عند عمله، وشركة إن ربح، وغصب إن خالف.(شرح الوقاية، ج:4، ص:243)

ما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال.(الفتاوى الهندية، ج:4، ص:318)

(سئل) فيما إذا خسر المضارب فهل يكون الخسران على رب المال؟(الجواب) : نعم.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، ج:2، ص:68)


فتویٰ نمبر : 4066/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں