بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق چند استفسارات


سوال

اسلامیات (کلاس پنجم) خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک، بورڈ پشاور کی عبارت ہے: - ''اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ہدایت کیلئے بہت سے نبی اور رسول بھیجے۔ سب انبیاء کرام نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا ۔سب سے آخر میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) خاتم النبیین تشریف لائے ۔آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئےگا''۔ سوال1: کیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبی نہیں تھے جوکہ وہ حضرت محمد کے بعد آئیں گے ؟سوال 2: لوگ کہتے ہیں حضرت عیسیٰ امتی کی شکل میں آئیں گے تو کیا حضرت عیسیٰ کو امتی کہنا نبی کی گستاخی نہیں ہے؟ سوال 3: جب حضرت عیسیٰ آئیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو وحی بھیجی جائے گی یا نہیں ؟ سوال 4: حضرت عیسیٰ اگر امتی کی شکل میں آئنگے تو اسکی وضاحت فرمائیں ۔سوال 5: کیا اس کتاب کی اس عبارت کو درست کرنا چاہیے یا اسی طرح ٹھیک ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کے بنیادی عقائداورضروریات دین میں سے ہےجس کے بغیرکوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، نیزیہ بھی واضح رہےکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کےنبی اوررسول تھے،ان  کو نبوت حضرت محمد مصطفی ﷺ سے پہلے دی گئی تھی اورپھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ آسمان پراٹھایا اورقرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی سابقہ نبوت پربرقراررہتے ہوئےتشریف لائیں گےالبتہ شریعت محمدیہ کے مطابق عمل اوراسی کے مطابق فیصلہ کریں گےاورشریعت محمدیہ کے مطابق امت مسلمہ کی رہنمائی فرمائیں گے،کیونکہ حضورﷺ کی تشریف آوری سے سب شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں اوریہ ان کے حق میں گستاخی نہیں نیزاللہ تعالی ان کی طرف وحی بھیجیں گے لیکن وہ وحی تشریعی نہ ہوگی۔

 سوال میں درج عبارت اسی طرح درست ہے۔

فبينما هو كذلك إذ أوحى الله إلى عيسى: إني قد أخرجت عبادا لي، لا يدان لأحد بقتالهم، فحرز عبادي إلى الطور......،إلخ.(صحيح مسلم،ج:8، ص:198)

 عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « كيف أنتم إذا نزل فيكم ابن مريم، فأمكم منكم»، فقلت لابن أبي ذئب: إن الأوزاعي ، حدثنا عن الزهري ، عن نافع ، عن أبي هريرة: وإمامكم منكم. قال ابن أبي ذئب: تدري ما أمكم منكم؟ قلت: تخبرني، قال: فأمكم بكتاب ربكم تبارك وتعالى وسنة نبيكم صلى الله عليه وسلم .(صحيح مسلم، ج:1، ص:94)

ثم إنه عليه السلام حين ينزل باق على نبوته السابقة لم يعزل عنها لكنه لا يتعبد بها لنسخها في حقه وحق غيره وتكليفه بأحكام هذه الشريعة أصلاً وفرعاً فلا يكون إليه عليه السلام وحي ولا نصب أحكام بل يكون خليفة لرسول الله صلى الله عليه وسلم وحاكماً من حكام ملته بين أمته بما علمه في السماء قبل نزوله من شريعته عليه الصلاة والسلام كما في بعض الآثار.(تفسیرروح المعاني،ج:22،ص:34)

وليس عيسى هو الناسخ بل نبينا صلى الله عليه وسلم هو المبين للنسخ فإن عيسى تابع لشريعتنا عند نزوله.(الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري، ج:11، ص:44)


فتویٰ نمبر : 6669/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں