بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈراپ شپنگ کی مختلف صورتیں اور ان کا حکم


سوال

آج کل آن لائن کاروبار میں ڈراپ شپنگ (Dropshipping) کا طریقہ بہت عام ہو چکا ہے، جس کی مختلف صورتیں ہیں۔(1) ایک شخص انٹرنیٹ (مثلاً ایمیزون وغیرہ) سے کسی پروڈکٹ کی تصویر لے کر اپنی ویب سائٹ پر لگا دیتا ہے۔ جب گاہک آرڈر دیتا ہے، تو یہ شخص وہی آرڈر اصل سپلائر کو بھیج دیتا ہے، اور سپلائر وہ سامان براہِ راست گاہک کے پتے پر پہنچا دیتا ہے۔ بیچنے والا اپنا مقررہ منافع اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔(2) گاہک کا آرڈر آنے پر، بیچنے والا پہلے وہ سامان خود خرید کر اپنے گھر یا گودام میں منگواتا ہے (تاکہ شرعی اصولوں کے مطابق اس کا قبضہ ہو جائے)، اور پھر وہاں سے گاہک کو روانہ کرتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ :جب بیچنے والے کے پاس سودا کرتے وقت خود سامان موجود اور ملکیت میں نہ ہو، تو محض تصویر دکھا کر اس کا بیچنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اصل مالک (سپلائر) کی اجازت کے بغیر اس کا سامان آگے بیچنے کی کیا شرعی حیثیت ہے؟مذکورہ بالا صورتوں میں سے کون سا طریقہ شرعاً جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عاقدین کے مابین خرید و فروخت کا معاملہ طے پاتے وقت اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ مبیع(فروخت کی جانے والی چیز)بائع (فروخت کرنے والا)کی ملکیت اور قبضہ میں موجود  ہو چنانچہ ا گر مبیع بائع کی ملکیت اورقبضہ میں نہ ہو تو معاملہ جائز نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق آن لائن کاروبار میں اگر مبیع بیچنے والے کی ملکیت اور قبضے میں نہ ہو اور وہ محض کسی چیز کا  اشتہار یا تصویر دکھا کر کسی کو فروخت کر دے، اور بعد میں وہ سامان کسی سے خرید کر فراہم کرے، تو یہ صورت شرعاً جائز نہیں ہے۔اس سے حدیثِ مبارک میں منع فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح دوسری صورت میں بھی  آرڈر لیتے وقت مبیع بائع کی ملکیت میں موجود نہیں ہوتا،اس لیے اس صوررت میں بھی مبیع خریدنے اور قبضہ کرنے سے پہلے پہلے اس چیز کو فروخت کرنا جائز نہیں  ،البتہ محض وعدہ بیع کر کے پھر جب ملکیت وقبضہ میں آجائےتو پھر فروخت کر کے بیچنا جائز ہے۔

 

(ومنها) أن يكون مملوكا.لأن البيع تمليك فلا ينعقد فيما ليس بمملوك(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم.( بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل واما الذی يرجع الی المعقود عليه،ج: 5، ص:147)


فتویٰ نمبر : 4074/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں