بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

کریڈٹ کارڈ بنانے کا حکم


سوال

میں سرکاری ملازم ہوں، میری ماہانہ تنخواہ تقریبا ایک لاکھ ہے۔ میرے اوپر کچھ قرضہ چڑھ گیا، جس کے اتارنے کی میں کوشش کر رہا ہوں اور کافی حد تک ادا کر چکا ہوں۔ تاہم مجھے یہ پریشانی لاحق ہے کہ جب میری سیلری آتی ہے تو میں پہلے اس سے قرض ادا کرتا ہوں۔ لیکن اس کی وجہ سے پھر گھریلو اخراجات کے لیے رقم باقی نہیں رہتی، جس کی وجہ سے پھر مجھے کہیں سے قرض لینا پڑتا ہے، اب اس ترتیب کو کافی عرصہ ہو چکا ہے اور اکثر جاننے والوں سے قرض لے چکا ہوں، اب بار بار انہیں تنگ کرنا مناسب نہیں لگ رہا۔ میں نے اپنی اس پریشانی کا ایک دوست سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ بینک سے کریڈٹ کارڈ بنوا لیں۔ میں نے اس کی تفصیلات پوچھیں تو ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ وہ کریڈٹ کارڈ بنوا لیتے ہیں تو آپ اس سے بل پے کر سکتے ہیں دیگر اخراجات راشن وغیرہ کا سامان شاپ سے لے سکتے ہیں۔ پھر اگر 40 دن سے پہلے پہلے آپ وہ رقم جمع کروا دیتے ہیں تو آپ سے کسی قسم کی کوئی اضافی رقم نہیں لی جائے گی۔ مجھے اپنی ذات پر مکمل اعتماد ہے کہ میں ہر ماہ 40 دن سے پہلے پہلے وہ رقم جمع کروا دیا کروں گا، کیونکہ میری جیسی سیلری آئے گی تو میں فورا پہلے یہ کام کر لوں گا اور پھر دو چار دن کے بعد کریڈٹ کارڈ سے ضروریات پوری کر کے اگلے ماہ سیلری آنے پر 40 دن سے پہلے پہلے پھر وہ جمع کروا دوں گا تو پوچھنا یہ ہے ،کیا میرے لیے کریڈٹ کارڈ بنوانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہر وہ  معاملہ جو سود پر مشتمل ہو شریعت میں جائز نہیں ہے۔چونکہ کریڈٹ بنانے میں بھی سودی معاملہ پر راضی ہونا پڑتا ہے ،کہ اگر میں بروقت ادائیگی نہ کر سکا تو سود ادا کروں گا،اس لیے کریڈٹ بنوانے سے احتراز ضروری ہے ۔

صورت مسؤلہ میں سائل کو کریڈٹ کارڈ بنوانے سے احتراز کرنا چاہیے،تاکہ سودی  معاملہ میں مبتلا ہونا نہ پڑے۔

 

عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه،وقال:هم سواء۔

(صحیح مسلم،کتاب المساقاۃ،باب لعن اٰکل الربا ومؤکلہ،رقم الحدیث:1598)

لايجوزإصداربطاقات الإئتمان ذات الدين المتجدد الذي يسدده حامل البطاقة على أقساط آجلة بفوائد ربوية (المعائيرالشرعية،معیار:بطاقة الحسم وبطاقة الإئتمان ،المادة 3/3)


فتویٰ نمبر : 4069/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں