بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تنہائی میں لفظ طلاق کہنا


سوال

اگرکوئی شخص اپنی بیوی کےلیےطلاق دینےکی نیت سےتنہائی میں لفظ طلاق کہےاوراپنی بیوی کی طرف اضافت نہ کرےتوطلاق واقع ہوجائےگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہےكہ طلاق کےوقوع کے لیےبیوی کی طرف طلاق کی اضافت شرط ہے،اوریہ اضافت یاتوصراحتاًہوجیسے"میری بیوی كوطلاق ہے"، یابیوی کومخاطب کرتےہوئےیہ کہے"تم کو طلاق ہے"، یاکنایۃًاضافت ہو،جیسےبیوی کی طرف اشارہ کرتےہوئےیہ کہے"یہ مطلقہ ہے"، یا بیوی کومخاطب کرکےکہے"طلاق،طلاق،طلاق"۔اگربیوی کی طرف کسی بھی طرح اضافت نہ پائی جائے،نہ صراحتاً، نہ کنایۃً، نہ خطاباً، نہ اشارۃً،تومحض لفظِ طلاق کہنےسےطلاق واقع نہیں ہوگی۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگرکوئی شخص اپنی بیوی کوطلاق دینےکی نیت سےتنہائی میں صرف لفظ طلاق کہےاوراپنی بیوی کی طرف کوئی اضافت نہ کرے، نہ صراحتاً، نہ کنایۃً، نہ خطاباً، نہ اشارۃً، تومحض لفظِ طلاق کہنےسےطلاق واقع نہیں ہوگی۔

 

(قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنھا الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. (رد المحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق،ج:4، ص: 458)


فتویٰ نمبر : 7418/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں