بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حکومت کا کم عمری میں نکاح کرنے پرپابندی لگانا


سوال

صغرسنی میں نکاح کا کیا حکم ہے قرآن وحدیث سے ثابت کرے؟کیا ملک پاکستان کا اٹھارہ سال سے کم عمر میں نکاح پر پابندی لگانا شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؟اگرشریعت کے مطابق نہیں ہےتواس پرعمل کرنےاورنہ کرنے پر حکومت کی طرف سے جرمانہ عائد کرکے سزا دینا کیساہے؟ آیا حکومت کوخلاف شرع قانون بنانے کی اجازت ہے یا نہیں ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دین اسلام میں نکاح کرنےکے لئےکوئی مخصوص عمر شرط نہیں (نہ بلوغت سے قبل نہ بلوغت کے بعد)بلکہ اگر ولی کسی نابالغ لڑکے یا لڑکی کےمفاداوربہترین مستقبل کی خاطراس کا نکاح کروائےتووہ منعقد ہو جائےگا نیز یہ بھی واضح رہے کہ لڑکی کی بلوغت کی کم سے کم عمر نو سال جبکہ زیادہ سے زیادہ عمر پندرہ سال ہے۔ پندرہ سال کے بعد بھی اگربلوغت کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو تولڑکی بالغہ شمارکی جائےگی اوراس پربلوغ کے احکام نافذ ہوں گے۔اورلڑکے کی بلوغت کی کم سے کم عمربارہ سال ہے، اس کے بعد علامات ظاہرہوجائیں تو بالغ شمار ہوگا، ورنہ پندرہ سال کی عمر میں  وہ شرعاً بالغ کے حکم میں ہوگا۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ حکومت کا معاشرےاورریاست کی اصلاح کی خاطرایسی قانون سازی کرناضروری ہےجس سے معاشرے کے اندرانصاف اورامن وسکون پیدا ہوسکے لیکن اس قانون سازی کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی احکامات کی پوری رعایت رکھی جائے چنانچہ اگرکوئی حکومت ایسی قانون سازی کرے جس میں اسلامی احکامات  کی مخالفت کی گئی ہوتو حکومت کے ایسے حکم کو ماننا جائز نہیں بلکہ اسلامی احکامات پرعمل کرنا لازم ہوگااورحکومت کاایسے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کوسزا دینا یا اس پرجرمانہ عائد کرنا جائز نہیں ہے۔نیز ملک پاکستان کا اٹھارہ سال سے کم عمر میں نکاح پرپابندی لگانا شریعت کے مطابق نہیں اس ایکٹ پرعمل نہ کرنے پر حکومت کی طرف سے جرمانہ عائد کرکے سزا دینا بھی جائزنہیں نیز یہ بھی واضح رہے کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے جس کے دستور میں یہ وضاحت موجود ہے کہ اس کے تمام قوانین قرآن وسنت  کے مطابق ہوں گےاس لئے کسی حکومت کودستورکی خلاف ورزی کرکے خلاف شرع قانون بنانے کی اجازت نہیں ۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَٱلَّٰٓـِٔي يَئِسۡنَ مِنَ ٱلۡمَحِيضِ مِن نِّسَآئِكُمۡ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَٰثَةُ أَشۡهُرٖ وَٱلَّٰٓـِٔي لَمۡ يَحِضۡنَۚ﴾ (الطلاق:4)

‌باب ‌إنكاح ‌الرجل ‌ولده ‌الصغار:لقوله تعالى: {واللائي لم يحضن} فجعل عدتها ثلاثة أشهر قبل البلوغ.حدثنا محمد بن يوسف  قال: حدثنا سفيان ، عن هشام ، عن أبيه، عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوجها وهي بنت ست سنين، وأدخلت  عليه وهي بنت تسع، ومكثت عنده تسعا.(صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب: إنكاح الرجل ولده الصغار، رقم الحديث:5133، ج:10، ص:466)

‌وفيه ‌دليل ‌أن ‌الصغيرة ‌يجوز أن تزف إلى زوجها إذا كانت صالحة للرجال فإنها زفت إليه وهي بنت تسع سنين فكانت صغيرة في الظاهر وجاء في الحديث أنهم سمنوها فلما سمنت زفت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم.(المبسوط للسرخسي، كتاب النكاح، باب نكاح الصغير والصغيرة، ج:4، ص:213)


فتویٰ نمبر : 7414/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں