بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

یوگانامی ورزش کرنے کاحکم


سوال

میری زوجہ نے یوگا نامی ورزش کی آن لائن کلاسیں لیں اس نے صرف ورزشیں کیں جس میں صرف سانس کو اندرکھینچنےاورباہر نکالتے ہوئے مختلف جسمانی ورزشیں کروائی جاتی ہیں کسی قسم کے ہندوانہ الفاظ زبان سے نہیں نکالے جاتے۔ منہ سے صرف سانس باہراورسانس اندر لی جاتی ہے اور جسم کے مختلف پٹھوں کو حرکت دی جاتی ہے تاکہ ورزش ہو۔ میری بیوی نے کوئی کفریہ جملہ نہیں بولا صرف ورزش کیں جوکہ یوگا میں کروائی جاتی ہیں جن کا مقصد جسمانی صحت ہوتا ہے کیا میری بیوی کافر تونہ ہوگئی؟

جواب

واضح رہے کہ یوگا ایک قدیم جسمانی اورذہنی ورزش ہے جس کا آغاز ہزاروں سال پہلے قدیم ہندوستان میں ہوا تھا۔ جس میں مختلف جسمانی ورزش کرنا، سانس کو قابو کرنے کی مشقیں کرنا، ذہن کو پرسکون بنانے اورتوجہ مرکوزکرنے کی مشقیں ہوتی ہیں جس سےجسم میں توازن ، ذہنی سکون اورکسی چیز پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا مقصود ہوتا ہے۔ کوئی بھی ایسا کھیل یا ورزش جس میں مشغول ہونے سے اسلامی تعلیمات کی مخالفت لازم نہ آتی ہوتوشرعااس کی اجازت ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل کی بیوی نےاگرصرف ورزش کی ہےاورکوئی کفریہ کلمات نہیں کہے تووہ بدستور مسلمان ہے۔

 

عن أنس قال: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، لعبت الحبشة لقدومه بحرابهم، فرحا بذلك. (مسند أحمد، ج:20، ص:91)

السبق بالقدم لما روت سيدتنا عائشة رضي الله عنها أنها قالت «سابقت النبي عليه الصلاة والسلام فسبقته فلما حملت اللحم سابقته فسبقني فقلت: هذه بتلك» فصارت هذه الأنواع مستثناة من التحريم فبقي ما وراءها على أصل الحرمة؛ ولأن الاستثناء يحتمل أن يكون لمعنى لا يوجد في غيرها، وهو الرياضة والاستعداد لأسباب الجهاد في الجملة - فكانت لعبا صورة ورياضة وتعلم أسباب الجهاد فيكون جائزا إذا استجمع شرائط الجواز، ولئن كان لعبا لكن اللعب إذا تعلقت به عاقبة حميدة لا يكون حراما.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب السباق، ج:8، ص:349)


فتویٰ نمبر : 6668/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں