بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چرس کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی


سوال

ہمارے علاقے میں بعض افراد اپنی ذاتی یا مشترکہ زمینوں میں بھنگ کی کاشت کرتے ہیں۔ بعد ازاں اسی بھنگ سے چرس تیار کی جاتی ہے اور مقامی سطح پر اس کی خرید و فروخت بھی جاری رہتی ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل امور کے متعلق شرعی رہنمائی درکار ہے:بھنگ بطورِ چرس کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ حلال ہے یا حرام؟یاد رہے کہ علاقے کے علماءِ کرام اس کے عدمِ جواز کے قائل ہیں ۔

جواب

ہر وہ نشہ آور چیز جس کا استعمال عقل اورجسمانی صحت کے لئے نقصان دہ ہو، اور جس کا مقصد محض نشہ حاصل کرنا ہو، تو اس  کی خرید وفروخت ناجائز اور حرام ہے۔ اسی طرح ایسی اشیاء کی کاشت، نقل و حمل اور تجارت میں کسی بھی قسم کا تعاون شرعاً ممنوع ہے۔

 صورتِ مسئولہ میں بھنگ کی کاشت جب کہ چرس بنانے کی غرض سے  کی جاتی ہو، تو چونکہ چرس انسانی صحت کے لئے نہایت مضر اور نقصان دہ ہے، اس لیے بھنگ کی کاشت کرنا، اس سے چرس تیار کرنا اور اس  کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز اور حرام ہے۔

 

(ويحرم أكل البنج والحشيشة) هي ورق القتب (والأفيون) لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة. وفي أول طلاق البحر: من غاب عقله بالبنج والأفيون يقع طلاقه إذا استعمله للهو وإدخال الآفات قصدا لكونه معصية، وإن كان للتداوي فلا لعدمها، كذا في فتح القدير، وهو صريح في حرمة البنج والأفيون لا للدواء. وفي البزازية: والتعليل ينادي بحرمته لا للدواء. (رد المحتار علی الدرالمختار، ج:10، ص:40)

 (وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز. (قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية. ( رد المحتارعلی الدرالمختار، کتاب الأشربة، ج:10، ص:35)

(لا تصح الإجارة لعسب التيس) (و) لا (لأجل المعاصي. (رد المحتار علی الدرالمختار، ج:6، ص:55)


فتویٰ نمبر : 6663/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں