بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نذرمانی ہوئی چیزکے بدلے قیمت دینا


سوال

میرا بیٹا کینسر کے مرض میں مبتلا تھا۔ اُس وقت میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو اس بیماری سے شفا عطا فرما دے، تو میں سونے کی اپنی دو انگوٹھیاں صدقہ کروں گی۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا بیٹا صحت یاب ہو چکا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ اُن متعین سونے کی انگوٹھیوں کو صدقہ کرنے کے بجائے اُن کی موجودہ قیمت کے برابر رقم صدقہ کر دوں؟ نیز کیا اس صورت میں میری نذر ادا ہو جائے گی؟

جواب

اگرکوئی شخص نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے، اور بعد میں وہ شرط پوری ہو جائے، تو اس نذر کو پورا کرنا شرعاً واجب ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر نذرمیں کسی متعین چیز کو صدقہ کرنے کا وعدہ کیا گیا ہو، تو اس چیز کو بعینہٖ دینے کی بجائے اس کی مالیت (قیمت) مستحقینِ زکوٰۃ کو ادا کرنا بھی جائز ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ نے یہ نذر مانی ہو کہ" اگر میرا بیٹا کینسر کی بیماری سے صحت یاب ہو گیا، تو میں اپنی سونے کی دو انگوٹھیاں صدقہ کروں گی"اورپھربیٹا صحت یاب ہو گیا، تو سائلہ پر نذر پوری کرنا لازم ہے۔ چنانچہ وہ یا تو وہی متعین سونے کی دو انگوٹھیاں صدقہ کر دے، یا ان کی موجودہ قیمت کے برابررقم مستحقینِ زکوٰۃ کو ادا کر دے، دونوں صورتوں میں نذر ادا ہو جائے گی۔

 

 (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى (كصوم وصلاة وصدقة).(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الأيمان، ص:284)

 (نذرأن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدقه بثمنه.(الدر المختار، كتاب الأيمان، ص:285)


فتویٰ نمبر : 10930/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں