بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مقتول کے ترکہ سے مقدمہ کے اخراجات
سوال
ایک شخص اپنے مقتول بھائی کے قتل کا مقدمہ عدالت میں لڑ رہا ہے۔ مقتول کے ورثا میں والد، زوجہ اور دو نابالغ بچے شامل ہیں۔ اس شخص کو مقدمہ لڑنے کی اجازت صرف والد کی طرف سے حاصل ہے، جبکہ مقتول کی زوجہ اور بچے اس بارے میں خاموش ہیں۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:مذکورہ صورت میں مقدمہ کے اخراجات (عدالتی فیس وغیرہ) کیا مشترکہ ترکہ سے لئے جائیں گے یا صرف والد کے حصے سے؟اور اگر یہ شخص تمام ورثاء(والد، زوجہ اور بچوں کے سرپرست) کی اجازت سے مقدمہ لڑ رہا ہو، تو کیا اس صورت میں اخراجات مشترکہ ترکہ سے لئے جائیں گے یا ہر وارث کے حصے کے بقدر ان پر تقسیم ہوں گے؟
جواب
واضح رہےکہ ترکہ تمام ورثا کا حق ہوتا ہے ، اور کسی کے حق میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ، البتہ تمام ورثا کی باقاعدہ اجازت سے ایک وارث اس میں سے خرچ کرسکتا ہے، اس لیے اگر مقتول کا بھائی (یا چچا) تمام ورثاکی اجازت لیے بغیر مقدمہ لڑتا ہے، تو اس پر خرچ ہونےوالے تمام اخراجات اس کی طرف سے "تبرع"تصور کیے جائیں گے دیگر ورثاء پر اس کا مالی بوجھ نہیں ڈالاجا سکتا۔نیز یہ بھی واضح رہےکہ نابالغ کی اجازت کا اعتبار نہیں اس لیے نابالغ کےحصےسے مقدمہ کے اخراجات نہیں لیےجاسکتے۔
لا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الأخر إلا بأمره.(الھداية في شرح بداية المبتدي،کتاب الشرکۃ،ج:3،ص:5)
المتبرع لایرجع بما تبرع بہ علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیرأمرہ.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،کتاب المداینات،ج:2،ص:248)
(وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون.(الدر المختار،كتاب الوصايا،ص:733)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں