بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قربانی کے واجب ہونے کی ایک صورت


سوال

میں اپنے بھائیوں کے ساتھ مشترکہ گھر میں رہتا ہوں، تاہم وہاں میرا گزارا مشکل ہے، چنانچہ  میں نے اپنا ذاتی گھر بنانے کے لئے 40 لاکھ روپے میں زمین  خریدی ، جس میں سے 28 لاکھ میں ادا کر چکا ہوں اور بقیہ رقم مجھ پر قرض ہے۔ نیز میری ایک زمین دوسری جگہ پر بھی ہے جس کی قیمت تقریبا 15 لاکھ روپے ہے، اب سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں مجھ پر قربانی کرنا واجب ہے یا نہیں؟ سوال کا جواب جلد از جلد دے تاکہ میں پھر قربانی کرنے کا انتظام کرسکوں۔

جواب

واضح رہے کہ جس مسلمان کی ملکیت میں ایسا سامان یا زمین موجود ہو، جو اس کی  بنیادی ضروریات  کے ساتھ مشغول نہ ہواور وہ نصاب کی مقدار تک پہنچتا ہو، تو ایسا شخص غنی شمار ہوتا ہے اور اس پر قربانی لازم ہے۔

صورتِ مسئولہ میں سائل جن زمینوں کا مالک ہے مجموعی لحاظ سے قرض منھا کرنے کے باوجود بھی چونکہ اس کی قیمت نصاب سے  زائد بنتی ہے اور یہ زمینیں اب موجودہ صورتحال میں سائل کی بنیادی ضرورت  کے ساتھ مشغول نہیں ہیں، اس وجہ سے سائل پر قربانی کرنا لازم ہے۔

 

والحاصل أن مايكون مشغولاً بحاجته الحالية نحو الخادم والمسكن، وثيابه التي يلبسها في الحال، لايعتبر في تحريم الصدقة بالإجماع، ومايكون فاضلاً عن حاجته الحالية يعتبر في تحريم الصدقة.(المحيط البرهانى، كتاب الزكاة، الفصل الثامن من توضع فيه الزكاة، ج:3، ص:217)


فتویٰ نمبر : 10926/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں