بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مال مضاربت سے ہوٹل کھولنا


سوال

ایک کاروباری صورت اس طرح رائج ہےکہ ہوٹل کا تمام سرمایہ اوراخراجات ایک فریق کی طرف سے ہوتے ہیں،جبکہ دوسرا شخص بغیرکسی مالی شرکت کےہوٹل کےانتظام وانصرام اورچلانےکی ذمہ داری سنبھالتا ہےاورسرمایہ دینےوالابھی اس کے ساتھ عمل کرتاہےاورحاصل ہونےوالے منافع میں دونوں فریق باہمی رضامندی سے شریک ہوتے ہیں۔ دریافت طلب اموریہ ہیں کہ::1کیا اس نوعیت کی شرکت شرعاًجائزہے؟2:منافع کی تقسیم کن شرائط کےساتھ درست ہوگی؟3:نقصان کی صورت میں فریقین پرکس حد تک ذمہ داری عائد ہوگی؟4:اگراس معاملہ میں کوئی شرعی قباحت ہو تواس کی درست اورجائزصورت کیا ہوسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکوئی شخص کسی دوسرے کو نقد سرمایہ یاایساسامان(جس کو بیچ کرنقد سرمایہ حاصل کیا جاسکے)اس شرط کے ساتھ دےدے کہ تم ان پیسوں سےکاروبارکرواورکماؤ،جتنا نفع ہوجائےاس میں دونوں شریک ہونگے،تواس کومضاربت کہاجاتاہے۔ سرمایہ دینےوالے کو''رب المال'' اورعمل کنندہ کو''مضارب''کہاجاتاہےاوراس کےاحکام یہ ہیں کہ مستقبل میں نفع میں دونوں شریک ہونگےاوراگرنقصان ہوجائے تواس کو سب سے پہلے منافع سے پورا کیاجائےگااوراگرمنافع سے پورا نہ ہوسکے تو پھرنقصان رب المال کے راس المال سےپوراکیاجائے گااورمضارب بری ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق یہ عقد مضاربت ہے البتہ اگرابتداء عقد میں رب المال کا مضارب کےساتھ عمل میں شریک ہونے کی شرط لگائی جائے تومضاربت فاسد ہو جائےگی تاہم اگرابتداء عقد مضاربت میں شرط نہ لگائی گئی ہواورپھرمضارب کے ساتھ  تبرع کےطورپرکوئی عمل کرنا چاہے تواس میں کوئی قباحت نہیں ،مزید یہ بھی واضح رہے کہ مضاربت میں منافع میں دونوں کی شراکت شرعاً ضروری ہےاورعقد کرتے وقت دونوں منافع کی تقسیم کو تناسب (فیصدی)کےاعتبارسےطےکرلیں گے،پھر اسی تناسب سےمنافع کوتقسیم کریں گےنیزیہ بھی واضح رہے کہ مضارب کے ہاتھ میں یہ مال امانت ہوتاہے جس کے ہلاک ہونے کی صورت میں ضمان نہیں ہوتاالبتہ ہلاک کرنے یا غفلت کرنے کی صورت میں مضارب پرضمان آتا ہے۔

 

قال: "المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر" ولا مضاربة بدونها؛ ألا ترى أن الربح لو شرط كله لرب المال كان بضاعة، ولو شرط جميعه للمضارب كان قرضا.( الهداية، ج:3، ص:200)

قال: "ولا بد أن يكون المال مسلما إلى المضارب ولا يد لرب المال فيه" لأن المال أمانة في يده فلا بد من التسليم إليه.(الهداية، ج:3، ص:201)

قال: "فإن دفع شيئا من مال المضاربة إلى رب المال بضاعة فاشترى رب المال وباع فهو على المضاربة" وقال زفر: تفسد المضاربة لأن رب المال متصرف في مال نفسه فلا يصلح وكيلا فيه فيصير مستردا ولهذا لا تصح إذا شرط العمل عليه ابتداء. ولنا أن التخلية فيه قد تمت وصار التصرف حقا للمضارب فيصلح رب المال وكيلا عنه في التصرف والإبضاع توكيل منه فلا يكون استردادا، بخلاف شرط العمل عليه في الابتداء لأنه يمنع التخلية.(الهداية، ج:3، ص:209)


فتویٰ نمبر : 4054/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں