بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

افیون کی کاشت کرنےکاشرعی حکم


سوال

بلوچستان کے بعض علاقوں،مثلاً گلستان، پشین، قلعہ عبداللہ اورچمن وغیرہ میں افیون (تریاق) کی کاشت ایک معروف اورمشاہدہ شدہ امرہے۔ یہ بات یقینی حد تک واضح ہوچکی ہے کہ اس کی پیداواربالواسطہ یا بلاواسطہ اُن افراد تک پہنچتی ہےجونشہ کے عادی ہیں۔اس کے نتیجے میں معاشرے کے متعدد نوجوان اس مہلک نشے کے استعمال میں مبتلا ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ،افیون کی کاشت نےمعاشرتی اوراخلاقی بگاڑکو بھی جنم دیا ہے۔ مختلف مقامات پرزمینوں کے تنازعات، جھگڑےاوردیگر ناخوشگوارواقعات اس فصل کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ مزید برآں، حکومتی سطح پربھی اس عمل کی صرف اجازت نہیں بلکہ اس کے سدباب کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں، جن میں کاشتکاروں کےسولرسسٹمزکی ضبطی، بورنگ کے ذرائع کوناکارہ بنانا اورپانی کی فراہمی کومحدود کرنا شامل ہے۔ان تمام حالات وقرائن کومدنظررکھتے ہوئےدرج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:1:افیون کی کاشت کا شرعی حکم کیا ہے،جبکہ اس کے مضراثرات اوراستعمال کا رخ واضح ہے؟2:اس کاشت سےحاصل ہوني والی آمدنی کا کیا حکم ہے،آیا یہ حلال شمارہوگی یا حرام؟3:وہ افراد جومجبوری کے تحت اس عمل میں بطورمزدورشریک ہوتے ہیں،ان کی اجرت اورآمدنی کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی روسےہرایسی فصل(مثلا:افیون اوربھنگ وغیرہ) کی کاشت کرنا،کاروبار کرنایا کسی طرح معاون بنناحرام ہے، جو صحت انسانی کےلئے مضراورنقصان دہ ہو ۔ موجودہ دورمیں افیون کےتباہ کن نقصانات کسی سے مخفی نہیں ،عموماً اس کی کاشت سے مقصود ہیروئن کاحصول ہی ہوتاہے، اس لئے اس کی کاشت جائزنہیں اوراس سے حاصل ہونی والی آمدنی بھی حرام ہے۔ اگرچہ دوائیوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے لیکن وہ ایک قلیل پیمانےپرہوتا ہےاس لئےاس کو جواز کےلئےحجت نہیں بنایا جاسکتا، حکومت کی ذمہ داری ہےکہ ادویات کےلئے بقدرضرورت خود اس کی کاشت کا بندوبست کرےتاکہ عام لوگ اس کے نقصان سے محفوظ رہیں۔ نیزیہ بھی واضح رہےکہ افیون کی کاشت میں بطورمزدورشریک ہونےسے بھی اجتناب ضروری ہےکیونکہ یہ اس کی کاشت میں معاونت ہے۔

 

 (ويحرم أكل البنج والحشيشة) هي ورق القتب (والأفيون) لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة.

قال ابن عابدين تحت (قوله والأفيون) هو عصارة الخشخاش، يكرب ويسقط الشهوتين إذا تمودي عليه، ويقتل إلى درهمين، ومتى زاد أكله على أربعه أيام ولاء اعتاده بحيث يفضي تركه إلى موته لأنه يخرق الأغشية خروقا لا يسدها غيره. (رد المحتار علی الدرالمختار، ج:10، ص:40)

(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز. (قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية. ( رد المحتارعلی الدرالمختار، کتاب الأشربة، ج:10، ص:35)

وإذا استأجر ذمي مسلما ليحمل له خمرا ولم يقل ليشرب أو قال ليشرب جازت له الإجارة في قول أبي حنيفة.( الفتاوى الهندية، ج:4، ص:449)


فتویٰ نمبر : 6656/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں