بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
فلاحی اداروں کے لیے زکوۃ کی وصولی اور خرچ کرنے کا طریقہ کار
سوال
گزارش ہے کہ (K,D,O) خوشحال ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن ایک رجسٹرڈ غیر سرکاری اور غیر منافع بخش ادارہ ہے ، جو کہ اکتوبر 2023ء کو وجود میں آیا، کے،ڈی،او، ایک قابل بورڈ آف گورنر کے زیرِنگرانی کام کر رہاہے اور سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ1860ء اور خیبر پختون خواہ چیرٹی کمیشن کے تحت رجسٹرڈ ہے،کے،ڈی،او ، نے پاکستان میں بالعموم صوبہ خیبر پختون خواہ میں بالخصوص تھیلسمیا جیسی موذی اور جان لیوابیماری کے روک تھام اور تھیلسمیا میں مبتلا بچوں کے امداد کا بیڑا اٹھایا ہے اور 1000 زکوۃ اہلیت کے حامل تھیلسمیا میں مبتلا بچوں کے سہارا بننے کا تہیہ کیا ہوا ہے، آپ حضرات اس ادارے کے لیے زکوۃ کی وصولی اور خرچ کرنے کا طریقہ کار بیان فرمائیں۔
جواب
مستحقین کی کفالت،مریضوں کے علاج اور دیگر فلاحی کاموں کے لیے کسی آرگنائزیشن یا ٹرسٹ کا قیام اور مستحقین افراد کے لئے مخیر حضرات سے مالی امداد کے طور پر صدقات واجبہ(زکوۃ ، عشر، کفارہ، نذر) اور صدقات نافلہ (صدقہ، ہبہ ) وصول کرنا فی نفسہ جائزہے، البتہ لوگوں سے لی گئی رقمیں پوری امانت و دیانت کے ساتھ شرعی ضابطہ کے مطابق خرچ کرنا ضروری ہے۔کیونکہ جو فلاحی ادارے زکوۃ جمع کرتے ہیں وہ زکوۃ کی رقم کے مالک نہیں ہوتے، بلکہ زکوۃ دینے والوں کی طرف سے وکیل ہوتے ہیں ، جب تک مستحقین تک زکوۃ کی رقم نہ پہنچ جائےزکوۃ دینے والوں کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی ، نیز یہ کہ صدقات واجبہ اور صدقات نافلہ کے خرچ میں فرق ہے اور وہ یہ کہ صدقات واجبہ میں مستحقین زکوۃ کو بلا عوض مالک بنانا ضروری ہے چنانچہ صدقات واجبہ کی رقم یا سازوسامان کسی مستحق کی تملیک کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا ، جبکہ صدقات نافلہ کو مالک کی مرضی اور اجازت کے مطابق کسی بھی مد میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
اس لیے لوگوں سے زکوۃ وصول کرنے والے آرگنائزیشن کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے مریض کے بارے میں یہ اطمینان حاصل کرے کہ وہ واقعتا مستحق ِ زکوۃ ہے یا نہیں ، اس کے بعد جب کسی مریض کے بارے میں یقینی طور پر یا ظن غا لب سے معلوم ہو جائے کہ وہ زکوۃ کامستحق ہے ، تو اس پر زکوۃ کی رقم خرچ کرنے کے درج ذیل طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں: (1) آرگنائزیشن مستحقِ زکوۃ مریض یا اس کے سرپرست کو اس کی ضرورت کے مطابق زکوۃ کی رقم نقد دےدے کہ وہ خود اس سے اپنا علاج کروائے(2) مریض کو جن ادویات یا خوراک وغیرہ کی ضرورت ہو،زکوۃ کے مال سے وہ چیزیں خرید کر مستحق کو ملکیتاً دے دی جائے۔(3) کسی ہسپتال سے معاہدہ کرکے مستحق مریض کو اس کی طرف ریفر کیا جائے، جب مریض وہاں سے علاج کرائے تو اس کے ذمے ہسپتال کی جو رقم واجب الادا ہو جائے ، آرگنائزیشن مستحق مریض یا مریض کے نابالغ ہونے کی صورت میں اس کے مستحق سرپرست کی اجازت سے زکوۃ کی رقم سے ہسپتال کو ادائیگی کرے، اس طرح زکوۃ اپنے مصارف میں خرچ ہو جائے گی ۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ آرگنائزیشن ملازمین کی تنخواہوں ، آفس کے اخراجات (کرایہ ، فرنیچر وغیرہ) اور ادارے کی دیگر ضروریات میں صدقات نافلہ کی رقم کو خرچ کرسکتی ہے ، لیکن صدقاتِ واجبہ سے خرچ نہیں کر سکتی ۔
(ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه). (رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب الزكوة، ج:3 ، ص:291)
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه. (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:250)
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة... ولا يجوز دفعها إلى ولد الغني الصغير. (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:251)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں