بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
شوہر،ماں،باپ، اور تین بیٹیوں كے درميان تقسیم میراث
سوال
1۔اگر ایک عورت وفات پا جائے اور وہ اپنے پیچھے شوہر، حقیقی ماں، باپ اور تین بیٹیاں چھوڑ جائے، تو اس کے ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟
2۔بیوی اور بچوں کا نان و نفقہ جو شوہر نے ادا نہ کیا ہو، کیا وہ شوہر کے ذمے قرض شمار ہوگا،اس طرح اگر مرحومہ کے لیے شوہر پر عدالت کی طرف سے عائد کردہ جرمانہ اور باہمی معاہدے کے تحت طے شدہ ہرجانہ، کیا مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہو کر یتیم بچوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
جواب
میــــــــــــــ(45)ــــــــــــ(بیوی)ــــــــــــــــــت
شوہر باپ ماں بیٹی بیٹی بیٹی
9 6 6 8 8 8
بشرط صدق و ثبوت اگر مرحومہ کے مذکورہ ورثاء کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہوں تو بعد ازادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحومہ کا بقیہ ترکہ پینتالیس(54) حصوں میں تقسیم ہو کر شوہرکو نو(9) حصے، ماں اور باپ میں سے ہر ایک کو چھ (6)حصے، اور تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو آٹھ (8) حصے ملیں گے۔
2۔ واضح رہے کہ نکاح منعقد ہونے پر شوہر کے ذمے بیوی کے جو حقوق واجب ہوتے ہیں، ان میں سے نان نفقہ بھی شامل ہے جوعدم ادائیگی کی صورت میں اس وقت دین بنتا ہے جب عدالت نے شوہر کے ذمے اس کی مقدار متعین کی ہو یا میاں بیوی کے مابین کسی مقدار پر اتفاق ہوا ہو۔
صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے بیوی کا نان ونفقہ ادا نہ کیا ہو اوراس کے ذمے اس کی مقدار متعین کی گئی تهى یا میاں بیوی کے مابین کسی مقدار پر اتفاق ہوا تها، تو جتنے عرصے کا اسے نفقہ نہیں دیاگیا تها، وه شوہر کے ذمے دین رہے گا۔ چنانچہ موت کی صورت میں اس کے ترکے کا حصہ بنے گا، اورجہاں تک اولاد کے خرچے کا مسئلہ ہے تو وہ والد کے ذمے دین نہیں بنتا چاہے قاضی نے فیصلہ بھی کیا ہو۔ اور عدالت کی طرف سے عائد کردہ جرمانہ اور باہمی معاہدے کے تحت طے شدہ ہرجانہ جو(فیملی کورٹ کے تصفیہ میں طے ہوا ہو) وہ تعزیر بالمال کے حکم میں ہو کر مرحومہ کے ترکہ کا حصہ شمار ہو کر یتیم بچوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
قال اللہ تعالیٰ:﴿فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ﴾ [النساء: 11]
وقال تعالیٰ﴿وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ … فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ﴾ [النساء:11]
وقال تعالیٰ﴿فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ [النساء: 12]
وإذا مضت مدة لم ينفق الزوج عليها وطالبته بذلك فلا شيء لها إلا أن يكون القاضي فرض لها النفقة أو صالحت الزوج على مقدار نفقتها فيقضي لها بنفقة ما مضى. (الهداية ،كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:2، ص:287)
يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا. (معين الحكام، فصل التعزيرلا يختص بفعل معين، ص:195)
وإذا قضى القاضي للولد والوالدين وذوي الأرحام بالنفقة فمضت مدة سقطت " لأن نفقة هؤلاء تجب كفاية للحاجة حتى لا تجب مع اليسار وقد حصلت بمضي المدة بخلاف نفقة الزوجة إذا قضى بها القاضي لأنها تجب مع يسارها فلا تسقط بحصول الاستغناء فيما مضى. قال: " إلا أن يأذن القاضي بالاستدانة عليه " لأن القاضي له ولاية عامة فصار إذنه كأمر الغائب فيصير دينا في ذمته فلا تسقط بمضي المدة. (الهداية ،كتاب الطلاق، باب النفقة،ج:2، ص:287)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں