بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

تجارت کی نیت سےخریدے گئے پلاٹ میں زکوٰۃ کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص تجارت کی نیت سے پلاٹ خریدتا اور کچھ عرصے بعد فروخت کرتا ہو، تو کیا اس پر زکوٰۃ پورے  سرمایہ (اصل رقم) پر واجب ہوگی یا صرف منافع پر؟ نیز اگر اس کے پاس ایک پلاٹ ذاتی رہائش کے لیے خریدا گیا ہو، تو کیا اس پر بھی زکوٰۃ لازم ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو پراپرٹی اس طرح تجارت کی نیت سے خریدی جائے کہ اس کو فروخت کرکے نفع کمایا جائے گا اوراس کی مالیت نصاب تک پہنچتی ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پراپرٹی کی کل قیمت پرزکوۃ واجب ہوگی لیکن اگر کوئی پلاٹ یازمین تجارت کی نیت سے خریدی گئی نہ ہو تواس میں زکوۃ واجب نہیں ۔

صورت مسئولہ میں  تجارت کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ کی کل مالیت پر زکوۃ واجب ہوگی صرف اس کے منافع پر نہیں اور جو پلاٹ ذاتی  رہائش کی غرض سے خریدا ہو اس پر زکوۃ واجب نہیں ۔

 

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب ۔۔۔وتشترط نية التجارة لأنه لما لم تكن للتجارة خلقة فلا يصير لها إلا بقصدها فيه. (فتح  القدير ،كتاب الزكوة ،باب زكوة المال، ج: 2،ص:166)

‌وليس ‌في ‌دور ‌السكنى ‌وثياب ‌البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكاة، ج:2، ص:262)


فتویٰ نمبر : 10903/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں