بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نسوار كا كاروبار كرنا


سوال

ایک شخص نسوار کا کاروبار کرتا ہے، اور اس میں مختلف اشیاء شامل کی جاتی ہیں۔ کیا شریعت میں ایسا کاروبار جائز ہے یا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ نسوار میں تمباکو ہوتا ہے اور تمباکو نباتات کی ایک قسم ہے اکثر علمائے کرام کے ہاں دیگر نباتات کی طرح اس کی کاشت اور خریدو فروخت بھی جائز ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق نسوار کے کاروبار سے حاصل شدہ منافع حلال ہیں۔ تاہم اگر کسی ملک میں تمباکو یا نسوار کی خریدوفروخت  قانونا ً ممنوع ہو تو وہاں اس کا کاروبار شرعا بھی ممنوع ہوگا البتہ اگر کسی نےاس کا کاروبار کرکے منافع حاصل کر لیے تو منافع  کوحرام نہیں کہا جا سکتا۔

 

وللعلامة الشيخ علي الأجهوري المالكي رسالة في حله نقل فيها أنه أفتى بحله من يعتمد عليه من أئمة المذاهب الأربعة.

قلت: وألف في حله أيضا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة ۔ ۔ ۔ فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه  ۔ ۔ ۔ أن يقول هو مباح، لكن رائحته تستكرهها الطباع؛ فهو مكروه طبعا لا شرعا. (رد المحتارعلی الدرالمختار، كتاب الأشربة،ج:7 ،ص:16)

أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب. ( ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب القضاء،مطلب طاعةالإمام واجبة،ج:5 ،ص:422)


فتویٰ نمبر : 4039/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں