بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نصاب حج وقربانی


سوال

ایک شخص کے پاس ذاتی رہائشی مکان ہے، جس میں ضرورتِ اصلیہ سے زائد کوئی چیز موجود نہیں۔ اس مکان کی تعمیر کے وقت اس نے مجبوری کے تحت قرض لیا تھا، جس میں سے تقریباً 3,10,000 روپے ابھی باقی ہیں۔ اسی شخص کے پاس کچھ زمین بھی ہے، جس میں سے کچھ وراثت میں ملی ہے اور کچھ اس نے سنہ 2018ء میں خریدی تھی، جس کا مجموعی رقبہ تقریباً 2 کنال 5 مرلہ ہے۔ اس زمین کو فروخت کرنے کا اس کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں، جبکہ اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 25,00,000 روپے ہے۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں: 1. کیا مذکورہ شخص پر حج فرض ہے یا نہیں؟ 2. کیا اس پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟ 3. اگر حج اور قربانی اس پر فرض/واجب نہیں ہیں، تو کیا وہ مقروض ہونے کی وجہ سے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے زکوٰۃ لے سکتا ہے؟ 4. مزید یہ کہ اگر مذکورہ زمین/پلاٹ  وہ کسی کو اجارہ (کرایہ) پر دے دے یا خود اس میں کاشتکاری شروع کرے اور اس سے آمدن حاصل ہو، تو ایسی صورت میں اس کے لیے حج، قربانی اور زکوٰۃ لینے کے احکام میں کیا فرق آئے گا؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں حج اور قربانی کے وجوب کے لیے الگ الگ شرائط ہیں۔ حج اس عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہوتاہے جس  کے پاس ایام حج یا  حج کے لیے داخلہ کرنے کے دنوں میں ضروریاتِ زندگی سے زائد اتنی رقم ہو جس سے حج کےضروری اخراجات اورآنے جانے کا خرچہ (ویزہ، ٹکٹ وغیرہ) اوراہل وعیال کا خرچ پورا ہوسکتا ہو۔جب کہ قربانی ہراس مسلمان(مردوعورت) پرواجب ہےجو عاقل،آزاداور مقیم ہواوراس کی ملکیت میں قربانی کے دنوں میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ان میں سےکسی ایک نصاب کے بقدر رقم یا ایساسامان موجود ہو ،جو اس کے حاجات اصلیہ سے زائد ہو۔

1: صورت مسؤلہ کے مطابق اگر زمین ضروریات اصلیہ میں مشغول نہ ہو، تو ایسی صورت میں زمین کی قیمت کا اعتبار ہو گا ،اگر زمین کی قیمت اتنی  مقدار میں ہوکہ جس سے سفر حج کا خرچہ اور ایام حج کے دوران اہل وعیال کا خرچہ و نفقہ واپس آنے تک پورا ہوسکتا ہو تو اس صورت میں حج فرض ہوگا۔

2:زمین کی قیمت قرض منھا کرنے کے بعد نصاب تک پہنچتی ہے ۔لہذا   قربانی واجب ہوگی۔

3:مذکورہ زمین کی قیمت اتنی ہے کہ قرض کے باوجود بھی یہ شخص غنی شمار ہوگا،اس لیے  قرض کی ادائیگی کے لیے کسی سے زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔

4:اگر زمین اجارہ پر دی گئی یا خود اس پر کاشتکاری شروع کی گئی اوراس کاآمدن اپنی ضروریات میں صرف کرنے لگے،تویوں یہ زمین ضرورت میں مشغول ہو جائے گی ،چنانچہ پھر اس کی آمدنی کا اعتبار ہوگا ،قیمت کا نہیں۔

 

فی غنیۃ الناسک:وإن کان له مسکن فاضل لایسکنه أوعبد لایستخدمه۔۔۔أو أرض لا یحتاج إلی غلتھا أوکرم زائد علی قدرالتفکه بھا أوحوانیت أونحوذلک ممالایحتاج إلیھا یجب بیعھا إن کان به وفاء بالحج ۔(غنية الناسك،باب شرائط الحج ص:21)

وإن كان صاحب ضيعة إن كان له من الضياع ما لو باع مقدار ما يكفي الزاد والراحلة ذاهبا وجائيا ونفقة عياله، وأولاده ويبقى له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقي يفترض عليه الحج، وإلا فلا۔ (الفتاوي الهندية،كتاب المناسك،الباب الاول في تفسير الحج،ج:1،ص:218)

(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة۔(الفتاوي الهندية،كتاب الاضحية،الباب لاول،ج:5،ص:290)

 (و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الزكاة،ج:2،ص:347)

و له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم وقيل قوت شهر فمتى فضل نصاب تلزمه۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الأضحیۃ،ج:6،ص:312)


فتویٰ نمبر : 10937/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں