بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کرنا


سوال

ہمارے علاقے میں تایا زاد بہن کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ اسے عرف عام میں بھانجی یا بھتیجی مانا جاتاہے۔ تو کیا تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کرنے میں شرعاً کوئی قباحت یا ممانعت نہیں ہے، کیونکہ تایا زاد بہن کی بیٹی شرعی اعتبار سے محرمات میں شامل نہیں ہوتی، بلکہ وہ غیر محرم ہے۔ عرفِ عام میں اسے بھانجی یا بھتیجی کہنا شرعی حکم کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

 

والصنف الرابع الاعمام والعمات والاخوال والخالات واعمام وعمات واخوال وخالات الآباء والامهات والاجداد والجدات وان علوا من اية جهة كانوا لاب وام أو لاب او لام يحرمون بأنفسهم واما أولاد جميع هذا الصنف واولاد اولادهم وان سفلوا فان التناكح والتسري يحل فيما بينهم من جميع وجوه القرابات وهم ارحام لا محارم.( النتف في الفتاوى، كتاب النكاح، الحرمة المؤبدة بالنسب، ج:1، ص:253)


فتویٰ نمبر : 7413/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں