بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حج میں سرکار کی طرف سے کی جانے والی دم شکرکی قربانی میں نیت تبدیل کرنا


سوال

اس سال حج 2026 میں گورنمنٹ کی طرف سے ہر حاجی سے قربانی کے عنوان سے رقم وصول کی گئی ہے خواہ وہ حج تمتع و قران کررہا ہو یا حج افراد کررہا ہو۔ بہر کیف!بعض حجاج کرام یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنا دمِ شکر خود کسی قابلِ اعتماد فرد یا ادارے کے ذریعے ادا کر دیں، اور گورنمنٹ کی طرف سے جو قربانی ان کی طرف سے کی جائے گی، اس میں دمِ شکر کے بجائے کوئی اور نیت مثلاً: بقر عید والی قربانی ، دمِ جنایت یا عقیقہ کی نیت کرلیں۔ مزید یہ کہ جب گورنمنٹ کو قربانی کی رقم جمع کروائی گئی تھی، اس وقت دمِ شکر ہی کی نیت تھی، لیکن اب بعد میں نیت تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ قابل استفسار امر یہ ہے کہ: 1. کیا گورنمنٹ کی اس قربانی میں دمِ شکر کے علاوہ دیگر نیتیں کرنا شرعاً معتبر ہوگا یا نہیں؟ 2. اور کیا قربانی کی نیت کو بعد میں تبدیل کرنا درست ہے یا نہیں؟ 3. اگر نیت میں تبدیلی درست نہیں تو کیا رقم جمع کرواتے وقت ہی دم شکر کے بجائے دیگر نوعیت کی نیت کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی کے لیے ذبح کرتے وقت نیت کرنا ضروری ہے،اس لیے اگر کوئی  قربانی کی نیت تبدیل کرنا چاہتا ہے توذبح سےپہلے تبدیل کرسکتاہے۔نیز قربانی ایک عبادت مالیہ ہے ،جس کی ادائیگی کے لیے کسی کو وکیل یا نائب بنانا جائز ہے،اس لیے اگر کوئی قربانی کے لیے وکیل یانائب بنائے،تو قربانی کا جانورذبح ہونے سےپہلے پہلے مؤکل نیت تبدیل کرسکتاہے۔

  چونکہ گورنمنٹ حاجیوں کی طرف سے وکیل ہے ،لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی حاجی خود قابل اعتماد فرد یا ادارے سے دم شکرادا کرنا چاہتا ہو،تو گورنمنٹ کودم شکرکی قربانی کے لیےجمع کی گئی رقم میں  نیت تبدیل کرکےقربانی یعنی اضحیہ یا عقیقہ وغیرہ کی نیت کرسکتا ہے۔

 

 (ومنها) أنه تجزئ فيها النيابة فيجوزللإنسان أن يضحي بنفسه وبغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال فتجزئ فيها النيابة كأداء الزكاة وصدقة الفطرِ۔(بدائع الصنائع،كتباب الاضحیۃ،فصل فی کیفیۃ الوجوب،ج:6،ص:291)

والمعتبرنیة الآمروالشرط مقارنة النية لفعل الذبح و لو حكما فلوتأخرت عنه لم يجزه،وتكفي النية عند الشراءوإن لم تحضره عند الذبح۔(غنية الناسك،باب الهدايا،فصل في شروط اجزاءالذبح،ص:541)

  فإن تجددللموكل نية أخرى بعد الدفع إلى الوكيل قبل دفع الوكيل إلى الفقير كان عما نوى أخيرا حتى لو دفع إليه دراهم يتصدق بها عن زكاة ماله فلم يدفع المأمور حتى نوى الآمر أن يكون عن نذره وقعت عن ذلك كذا في السراج الوهاج.(الفتاوی الهندية،كتاب الزکوٰۃ،الباب الاول،ج:1،ص:171)


فتویٰ نمبر : 10938/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں