بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 16/08/2026 |
دارالافتاء
اوورٹائم کی اجرت نہ ملنے کی صورت میں کسی اور طریقے سے اپناحق وصول کرنا
سوال
باہر ممالک میں ملازمین کو یہ مسئلہ پیش آتا ہے کہ ان کے لیے کام کرنے کا وقت مقرر ہوتا ہے، لیکن کبھی ان سے اضافی وقت (اوور ٹائم) کام کروایا جاتا ہے۔ اس اضافی وقت کا معاوضہ نہ طے کیا جاتا ہے اور نہ ہی کمپنی والے دیتے ہیں، البتہ وہ لوگ مجبوری کی وجہ سے اوور ٹائم کرتے ہیں۔ اگر ایک مہینے کے اوور ٹائم کا حساب لگایا جائے تو تقریباً 700 درہم بنتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ چونکہ ان کی اجرت طے نہیں ہوئی ہے، اس بنا پر وہ اجرت کے مستحق نہیں ہوتے، لیکن چونکہ وہ اجرت پر ہی کام کرتے ہیں، اس لیے اس جزئیہ: "أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة فإنه يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة" کی بنا پر وہ اجرتِ مثل کے مستحق بن سکتے ہیں۔لیکن کمپنی ان کو اجرتِ مثل دینے کے لیے تیار نہیں ہے، تو کیا مسئلۃ الظفر کے تحت کمپنی سے اجرت مثل کے بقدر کسی طرح اپنا حق وصول کرسکتےہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی شخص کا کسی پر حق ثابت ہو اور وہ اسے ادا نہ کر رہا ہو، تو وہ بقدرِ حق کسی مناسب طریقے سے اپنا حق وصول کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں ظلم یا خیانت لازم نہ آئے۔ اسی طرح جو لوگ بیرونِ ممالک میں کام کرتے ہیں، ان سے جو خدمات لی جاتی ہیں وہ اجرت کے ساتھ ہی ہوتی ہیں، اس لیے اور ٹائم کی اجرت اگر طے نہ ہوتو وہ اجرتِ مثل کے مستحق ہوں گے۔
صورتِ مسئولہ میں جن ملازمین سے اضافی وقت (اوور ٹائم) کام لیا جاتا ہے اور اس کا معاوضہ نہ کمپنی طے کرتی ہے اور نہ ادا کرتی ہے، جبکہ وہ ملازمین مجبوری کے تحت یہ کام کرتے ہیں، تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ وہ پہلے اپنے حق کا باقاعدہ مطالبہ کریں اور کمپنی سے اس اضافی وقت کی اجرت طلب کریں۔ اگر اس کے باوجود کمپنی اجرت ادا نہ کرے، تو ملازمین کے لیے یہ گنجائش ہے کہ وہ مسئلۂ ظفر کے تحت اپنی اجرتِ مثل کے بقدر کسی مناسب طریقے سے اپنا حق وصول کر لیں، بشرطیکہ وہ اپنے حق سے تجاوز نہ کریں اور کسی قسم کی خیانت یا زیادتی کے مرتکب نہ ہوں۔
أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة انظر. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام، المادة:563، ج:3، ص574)
وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس للمجانسة في المالية. قال في المجتبى وهو أوسع فيعمل به عند الضرورة. (قوله وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ. قلت: وهذا ما قالوا إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق:عفاء على هذا الزمان فإنه … زمان عقوق لا زمان حقوقوكل رفيق فيه غير مرافق … وكل صديق فيه غير صدوق.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب السرقة،ج:4،ص:95)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں