بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی میں مثل کے بجائے قیمت دینا


سوال

ایک شخص نے دوسرے شخص سے ایک تولہ سونا لے لیا اور اس وقت سونے کی قیمت ایک لاکھ تھی اور اب تقریباً 5 لاکھ ہے اب مقروض قرض خواہ سے کہتا ہے کہ میں آپ کو ایک لاکھ دو ں گا اور دوسرا کہتا ہے کہ نہیں آپ نے مجھ سے ایک تولہ سونا لیا ہے آپ مجھے ایک تولہ سونا ديں گے تو اب کونسی صورت صحیح ہوگی رہنمائی فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ شرعا قرض کی واپسی میں اسی چیز کی مثل واپس کرنا واجب ہوتا ہے جو بطور قرض لی گئی ہو۔ لہٰذا اگر کسی نے سونا بطور قرض لیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اتنا ہی سونا واپس کرے۔ البتہ اگردونوں باہمی رضا مندی سےاس چیز کے مثل کے بجائے اس کی قیمت پر اتفاق کریں تو یہ بھی جائز ہے۔

 صورتِ مسئولہ میں جب ایک تولہ سونا لیا گیا تھا تو مقروض پر ایک تولہ سونا ہی واپس کرنا واجب ہے، چاہے اس کی موجودہ قیمت پہلے سے زیادہ کیوں نہ ہو۔ البتہ اگر فریقین باہمی رضامندی سے سونے کے بدلے اس کی قیمت پر اتفاق کرلیں تو یہ بھی جائز ہے۔  لیکن قرض خواہ کی رضامندی کے بغیر قرض کی مقدار میں کمی کرنا جائز نہیں۔ تاہم اگر قرض خواہ اپنی خوشی سے کچھ معاف کر دے تو یہ جائز ہے۔

 

قد قالوا إن ‌الديون ‌تقضى ‌بأمثالها.(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الأيمان،ج:3،ص:789)

أنه ‌لو ‌كانت ‌الدراهم ‌فضتها ‌خالصة ‌أو ‌غالبة ‌كريال ‌الفرنجي ‌في ‌زماننا فالواجب رد مثلها، وإن كانا في بلدة أخرى، لأن ثمنية الفضة لا تبطل بالكساد، ولا بالرخص أو الغلاء.(‌‌ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،‌‌فصل في القرض،ج:5،ص:163)

‌المديون ‌إذا ‌قضى ‌الدين ‌أجود ‌مما ‌عليه ‌لا ‌يجبر ‌رب ‌الدين ‌على ‌القبول ‌كما ‌لو ‌دفع ‌إليه ‌أنقص ‌مما ‌عليه، ‌وإن ‌قبل ‌جاز ‌كما ‌لو ‌أعطاه ‌خلاف ‌الجنس ‌وهو ‌الصحيح.(الفتاوی الهنديه،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض والاستقراض والاستصناع،ج:3،ص:204)


فتویٰ نمبر : 4036/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں