بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح میں ایجاب اور قبول کے وقت دلہن کے والد کا نام نہ لینا


سوال

کیانکاح میں ایجاب اور قبول کے وقت دلہن کے والد کا نام لینا ضروری ہے؟اگر اس كانام نہ لیا گیا ہو، تو کیا نکاح پرکوئی اثر پڑے گا؟

جواب

نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہےکہ نكاح كرنے والا لڑكا اور لڑكی دونوں معلوم اور متعین ہوں۔نیزمجلسِ نکاح میں بہتر صورت یہ ہے کہ لڑکے اورلڑکی کے نام  مع ولدیت لیےجائیں تاکہ کسی قسم کی جہالت باقی نہ رہے اوردونوں کی معرفت صحیح طور پر حاصل ہوجائے،تاہم والد کا نام ذکر کرنے سے مقصودچونکہ تعارف ہوتا ہے،لہذااگر کسی اورطرح سے لڑکا اور لڑکی متعین ہوجائیں توایجاب اور قبول کرتےوقت اگروالد کا نام نہ لیا جا ئےتو بھی نکاح ہوجاتا ہے۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگر کوئی نکاح باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی  میں ہوجائے،لڑکااور لڑکی کے معلوم ہونے میں کوئی ابہام نہ رہاہو،تو نکاح منعقدہوگااگرچہ لڑکی کے والد کا نام نہ لیاگیا ہو۔

 

أشار بقوله فيما مر ولا المنكوحة مجهولة إلى ما ذكره في البحر هنا بقوله: ولا بد من تمييز المنكوحة عند الشاهدين لتنتفي الجهالة، فإن كانت حاضرة منتقبة كفى الإشارة إليها…وكذا إذا وكلت بالتزويج فهو على هذا.اهـ.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب النكاح، ج:4،ص،89)

 والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا، وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال: لأن المقصود من التسمية التعريف، وقد حصل، وأقره في الفتح والبحر(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب النكاح، ج:4،ص،90)


فتویٰ نمبر : 7386/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں