بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
چاربيٹوں ميں ميراث كی تقسیم
سوال
ہماری والدہ زربی بی ہمارے والد حضرت گل سے قبل ایک دوسرے شخص گل پسند کے نکاح میں تھی،اس سے ہماری والدہ کےدوبیٹےتھے:اسرارحسین اورمحمدحسن۔گل پسندکی وفات کےبعدہماری والدہ ہمارےوالدحضرت گل مرحوم کےنکاح میں آئی۔اوران سےہم چاربھائیوں(نذیرگل،شمشاد،نوشاد،اعجازحسین)اور ایک بہن(شازیہ بی بی)کی ولادت ہوئی۔ہماری والدہ کے پہلےشوہر سے جو دوبیٹے تھے ہمارے والد نے نادرا میں انہیں بھی اپنے بیٹوں کے نام پر درج کیا ہے،حالانکہ وہ ا س کے حقیقی بیٹے نہ تھے جس کا وہ خودبھی اقرار کرتےہیں۔اس کے بعدہماری والدہ فوت ہوئی،پھر ہماری بہن فوت ہوئی اور پھر ہمارےوالد فوت ہوئے۔اب ہمارے والد حضرت گل مرحوم کی وراثت میں کس کا کتنا حصہ ہوگا؟ہمارے سوتیلے بھائیوں کا بھی اس میں حصہ بنتا ہےیا نہیں؟براہ کرم تفصیل سے آگاہ کریں۔
جواب
مــــــــــــــــ(حضرت گل)ــــــــ(4)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا سوتیلابیٹا سوتیلابیٹا
نذیرگل شمشاد نوشاد اعجازحسین اسرارحسین محمدحسن
1 1 1 1 محروم محروم
بشرط صدق وثبوت اگرمرحوم(حضرت گل)کے مذکورہ بالاورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ چار(4) حصوں میں تقسیم ہو کرہر ایک بیٹے کو1/4حصہ ملے گا۔جب کہ اسرار حسین اور محمد حسن اگر واقعی مرحوم کے حقیقی بیٹے نہیں تھےتو مرحوم کی میراث میں ان دونوں کا کوئی حصہ نہیں بنتا۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فلأولى رجل ذكر.(صحيح البخاري، باب: ميراث الجد مع الأب والإخوة.رقم الحديث: 6356)
فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل.(الفتاوى الهندية، باب العصبات،ج:6،ص:443)
ویسقطون بالولدو ولد الابن و إن سفل۔(سراجى،باب معرفة الفرض ومستحقيها،ص:30)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں