بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جناز گاہ کی چھت پر عید کی نماز ادا کرنا


سوال

ہمارے علاقے میں ایک جناز گاہ ہے اور اس کی چھت کے نیچے چند قبریں ہیں، علاقے کے لوگ یہاں عید کی نماز بھی ادا کرتے ہیں۔ اور اب علاقے کے چند علماء کرام فرماتے ہیں کہ اس جناز گاہ میں جنازہ کی نماز تو ادا ہوتی ہے لیکن عید کی نماز ادا نہیں ہوتی کیونکہ اس میں سجدہ ہوتا ہے اور اس کے نیچےقبریں ہیں اور قبروں پر سجدہ سے منع کیا گیا ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس جناز گاہ میں وہ نماز ادا ہوتی ہے جس میں سجدہ ہوتا ہے کہ نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قبرستان میں اگر قبریں نمازی کے با لکل سامنے ہوں اور درمیان میں کوئی حائل نہ ہو تونماز مکروہ ہوتی ہے، لیکن اگر قبریں نمازی کے پیچھے ہوں، یادرمیان میں اس طرح حائل ہو کہ قبریں نظر نہ آتی ہوں، تو کوئی کراہت نہ ہوگی۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق وہ جگہ جو قبرستان میں نمازِ جنازہ پڑھنے کے لیے مخصوص کی گئی ہے اور اس کی چھت کے نیچے قبریں ہیں، وہاں نمازِ عید اور پنج وقتہ نماز یں پڑھنا جائز ہے۔

 

تكره الصلوة في المقبرة إذا كان القبر بين يدي المصلي بحيث لو صلى صلوة الخاشعين وقع بصره عليه وأما إذا كان خلفه أو فوقه أو تحت ما هو واقف عليه فلا كراهة على التحقيق. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، باب مايفسد الصلاة، فصل فى المكروهات، ج:1، ص:357)


فتویٰ نمبر : 10922/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں