بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زہ تاتہ طلاق درکوم،الفاظ کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی بات پر تنازعہ کرتے ہوئے یہ جملہ  کہا"زہ تاتہ طلاق درکوم"اورچاردفعہ یہ جملہ کہاہو،تواب پوچھنایہ ہے کہ کیا اس سے طلاق واقع ہوئی  ہےیا نہیں؟اگر واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

جواب

 واضح رہےکہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو صریح الفاظ سےطلاق دےتو  طلاق واقع ہوجاتی ہے۔اس طرح اگر کوئی شخص تین دفعہ یا اس سےزیادہ مرتبہ طلاق کے صریح الفاظ استعمال کرےتوعورت پر تین طلاقیں واقع ہوکروہ مطلقہ مغلظہ ہوجاتی ہے۔

صورت مسئولہ میں   چونکہ مذکورہ الفاظ "زہ تاتہ طلاق درکوم"(میں تجھے طلاق دیتا ہوں)طلاق کے  صریح الفاظ ہیں۔اس لیے اگر مذکورہ الفاظ شوہرنےچار دفعہ استعمال  کیےہوں تو اس کی بیوی تین طلاقوں کے ساتھ اس سے جدا ہوچکی ہے۔

 

كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.(صحيح البخاري،كتاب الطلاق،باب من قال أنت على حرام، رقم الحدیث5264،ج:3،ص:1505)

(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية. قال ابن عابدین: فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية. (ردالمحتار علی الدرالمختار،باب الصریح،ج:4،ص:457)


فتویٰ نمبر : 7385/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں