بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سکول ٹیچر کا وقت سے پہلے جانا


سوال

میں ایک سرکاری ٹیچر ہوں ایک سرکاری مدرسے میں تقرری ہوئی ہے ہماری چھٹی ڈھائی بجے ہے لیکن ہماری کلاسز ظہر کی نماز سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں۔ پھر ظہر کی نماز کے بعد ایک گھنٹہ رہتا ہے، اس وقت کوئی کلاس نہیں ہوتی ہے، تو کیا ہم اس وقت مدرسے سے جاسکتے ہیں یا چھٹی تک مدرسہ میں رہنا ضروری ہے؟ اگر اس وقت استاد چلا جائے تو  کیا اس ایک گھنٹے کی تنخواہ حلال ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ سکول کا تنخواہ دار استاد اجیر خاص کے حکم میں ہوتا ہے اور اجیر خاص وہ ہوتا ہے، جو  اپنے وقت کے بدلے اجرت کا مستحق ہوتا ہے، اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنا مقررہ وقت پورا کرے، چاہے اس وقت میں کوئی کام ہو یا نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق حکومت کی طرف سے جو وقت مقرر ہے سائل کو اس کا پورا کرنا ضروری ہے، اس سے پہلے جانا جائز نہیں ہے، اگرچہ کوئی کلاس نہ ہو اور وقت سے پہلے جانے کی صورت میں اس وقت کی تنخواہ لینا جائز نہیں ہے۔

 

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة. (رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الإجارة،ج:6،ص:69)

أن الأجير الخاص هو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة. (فتح القدير،كتاب الإجارات،ج:9،ص:140)


فتویٰ نمبر : 4050/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں