بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق كے اقرار سے منكر ہونا


سوال

اگر کوئی شخص ا پنی بیوی کو تین طلاقیں اکھٹی دےجس کا وہ چھ ماہ تک خود مختلف مجالس میں اقرار کرتا رہے، تاہم بعد میں اپنے اس قول سے انکاری ہوجائے اور دو طلاقوں کا دعوی ٰکرنے لگ جائے، جس پر کچھ گواہ اس کا ساتھ دینے لگ جائے اور کچھ اس کی مخالفت کرنے لگے، نیز اس کی بیوی خود بھی تین طلاقوں کا اقرا ر کرے اس کے باوجود تقریباً چار سال گزرنے کے بعد بغیر حلالہ کے  آپس میں دوبارہ نکاح کریں، کیا شریعت کی رو سے یہ نکاح ٹھیک ہے؟

جواب

جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکھٹی طور پر دے تو عورت مطلقہ مغلظہ ہوکر شوہر پر حرام ہوجاتی ہے۔نیز اگر کوئی شخص تین طلاقوں کے بعد اپنے قول سے انکاری ہو جائے جس کا وہ مختلف مجالس میں اقرار بھی کرتا رہا ہو   اور اس اقرار پر دو معتبر  گواہ بھی موجود ہوں، تو اس انکار کا کوئی اعتبار نہیں ۔

صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے  واقعی اپنی بیوی  کو تین طلاقیں دی ہوں اور چھ مہینے تک مختلف مجالس میں اس کا اقرار بھی کرتا رہا ہو، جس پر کم از کم دو معتبر گواہ موجود ہوں اور وہ گواہی دیں، تو ایسی صورت میں یہ عورت اپنے شوہر پر مطلقہ مغلظہ ہوکر حرام ہوگی، اور اقرار سے انکار کرنے کا کوئی اعتبار نہ ہوگا۔

 

(والبدعي ثلاث متفرقة)وكذا بكلمة واحدة بالأولىوذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق، ج:3، ص:233)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، ج:1، ص:473)

ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.( رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطلاق، ج:3، ص:236)


فتویٰ نمبر : 7404/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں