بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کے علاج کا خرچہ


سوال

میرے والد نے میرا رشتہ اپنی بانجی سے کرایا ، خاندان میں جھگڑا ہوگیا جس کی وجہ سے مجھے گھر سے الگ کردیا، اب ہم میاں بیوی آپس میں اچھی زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہر وقت میری گھر والی کی والدہ ہمارے معاملات میں دخل اندازی کرتی ہے اور بات بات پر حدیث میں فلاں کام اس کے ذمے نہیں ہے حدیث میں یہ شوہر پر لازم ہے، اس طرح کی باتیں کرتی رہتی ہے اپنی مفاد کی باتوں کو حدیث بناکر پیش کرتی ہے، میری گھر والی کی طبیعت ناساز ہے تو میں اس کا علاج بھی کرا رہا ہوں ایک پیسہ کسی سے نہیں لیا،جس میں تقریباً 35000ہزار کا مقروض ہوگیا  صرف ایک مرتبہ جب میرے ساتھ پیسے نہیں تھے تو  میری ساس نے 8000 روپے میری بیوی کے علاج میں لگائے تھے اب مجھے بات بات پر طعنہ دیتی ہے  میری بیوی اب میرے ساس کے گھر میں ہے جس کو وہ نہیں چھوڑتی    اور کہتی ہے کہ شریعت میں میری بیٹی پر لازم نہیں ہے کہ وہ تمہارے ماں باپ کی خدمت کرے اور حدیث میں ہے کہ بیوی کی ایک ایک چیز پورا کرنا شوہر پر لازم ہے اور بھی بہت کچھ کہا تو مجھے بھی غصہ آگیا تو میں نے کہا جب ہر چیز میں آپ لوگ شریعت کے مطابق عمل کر رتےہو تو اس پر بھی عمل کرو کہ جب آپ کی بیٹی بیمار ہو تو اس کا علاج آپ لوگ کراؤ آپ کی بیٹی کا علاج کرانا تو مجھ پر لازم نہیں ہے تو ان کے بیٹے نے کہا کہ حدیث کے مطابق اس کی بیماری کا علاج کرانا شوہر پر لازم ہے حالانکہ وہ خود بھی ایک عالم ہے ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیوی کے علاج کا خرچہ شرعاً آیا شوہر پر لازم ہے یا اس کے والدین پر؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی کو حسنِ معاشرت کا حکم دے کر  یہ واضح کیا ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ باہم اخلاقیات ،ایثار اور ہم دردی سے چلتا ہے،  اس لئے ازدواجی زندگی برداشت ،خیرخواہی اور ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھنے سے خوشگوار بنتی ہے۔ اس وجہ سے بیوی کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہر کو اپنے لئے ہر کسی سے بالاتر سمجھے ، مباح امور میں اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرے،اس کی خیر خواہی اور رضا جوئی میں کوئی کمی نہ کرے ،شوہر کی غیر موجودگی میں اس کے گھر بار کی حفاظت کرے،شوہر کے والدین کا اکرام واحترام کرے وغیرہ۔ اسی طرح ساس یا دیگر رشتہ داروں کے لئے بھی مناسب نہیں کہ وہ میاں بیوی کے معاملات میں بلا ضرورت مداخلت کریں یا بیٹی کو بلا عذر شوہر کے گھر جانے سے روکیں  ۔

نیز ازدواجی بندھن کے سبب  شوہر پر بیوی کانان نفقہ واجب ہوتاہے جس کی تشریح فقہائے کرام نے بنیادی ضروریات زندگی یعنی کھانا  ،لباس اور رہائش  سے کی ہے، البتہ زمانے اور عرف کی تبدیلی سے ان ضروریات کی تشریح  بھی بدل جاتی ہے۔چونکہ آج کل امراض کے کثرت کی وجہ سے علاج معالجہ بھی  ضروریات زندگی کی حیثیت اختیار کرچکاہے کیونکہ اس  کے بغیر شوہر کے ہاں بیوی کاگزر ممکن نہیں، اس لیے  عصر حاضر کے کئی علماء  نے علاج معالجے کو بھی نفقے میں داخل قراردیاہے، لہٰذا شوہر پر لازم ہے  کہ وہ  اپنی وسعت کی بقدر  بیوی کے علاج کے اخراجات برداشت کیاکرے۔ البتہ اگر شوہر مالی تنگی میں ہو اور بیوی کے والدین یا دیگر رشتہ دار تعاون کردیں تو یہ احسان اور تعاون شمار ہوگا، جسے بعد میں طعنہ اور احسان جتانے کا ذریعہ بنانے سے قرآن وحدیث میں منع کیا گیا ہے۔

 

قال الله تعالى: ﴿ يَٰأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُبۡطِلُواْ صَدَقَٰتِكُم بِٱلۡمَنّ وَٱلۡأَذَىٰ ﴾ [البقرة: 264]

و قال تعالى: ﴿ وَعَلَى ٱلۡمَوۡلُودِ لَهُ رِزۡقُهُنَّ وَكِسۡوَتُهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِ ﴾ [البقرة: 233]

ليس في النفقة عندنا تقدير لازم ،لأن المقصود من النفقة الكفاية وذالك ممايختلف فيه طباع الناس وأحوالهم ويختلف باختلاف الأوقات أيضا"(البحرالرائق،باب النفقة، ج:4، ص:296)

ويظهر لدي أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية، فلا يحتاج الإنسان غالباً إلى العلاج؛ لأنه يلتزم قواعد الصحة والوقاية، فاجتهاد الفقهاء مبني على عرف قائم في عصرهم. أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلى العلاج كالحاجة إلى الطعام والغذاء، بل أهم؛ لأن المريض يفضل غالباً ما يتداوى به على كل شيء، وهل يمكنه تناول الطعام وهو يشكو ويتوجع من الآلام والأوجاع التي تبرح به وتجهده وتهدده بالموت؟! لذا فإني أرى وجوب نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية.( الفقه الإسلامي وأدلته، الفصل الخامس النفقات،نفقة الزوجة والأقارب ج:10، ص:7381)


فتویٰ نمبر : 7407/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں