بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سادات کرام کے لیے زکوٰۃ


سوال

سادات کرام کے لیے زکوٰۃ لینے کا کیا حکم ہے؟ اگر کوئی سید (ہاشمی) شدید تنگدستی کا شکار ہو اور نوبت دستِ سوال دراز کرنے تک پہنچ جائے، تو کیا ایسی صورتِ حال میں ان کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے سادات (آلِ رسول ﷺ) کو زکوٰۃ دینا ایک مجتہد فیہ مسئلہ ہے، یعنی اس میں فقہاء کے درمیان علمی اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگرچہ جمہور فقہاء کے نزدیک سادات کے لیے زکوٰۃ کا لینا ممنوع ہے، تاہم امام اعظم ابوحنیفہؒ سے ایک روایت اور بعض دیگر فقہاء سے مخصوص حالات میں اس کے جواز کا قول بھی منقول ہے۔چنانچہ  سادات کے لیے زکوۃ نہ لینے کا حکم بعض معروضی حالات، ضروریات اور مجبوریوں کی بنا پر مختلف ہو سکتا ہے۔آج کل چونکہ سادات کے لیے نہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ وظائف کا کوئی نظم ہےاور نہ ہی لوگوں کی طرف سے ان کی کفالت کے لیے کوئی منظم بندوبست موجود ہے، لہذا ایسی صورت میں اگر سادات میں سے کوئی فقر و تنگدستی کی وجہ سے دستِ سوال دراز کرنے پر مجبور ہو جائے، تو اس اضطراری حالت میں اس کے لیے زکوٰۃ لینےکی گنجائش ہے۔

 

‌وقد ‌اختلف ‌عن ‌أبي ‌حنيفة رحمه الله في ذلك ، فروي عنه أنه قال: لا بأس بالصدقات كلها على بني هاشم. وذهب في ذلك عندنا إلى أن الصدقات إنما كانت حرمت عليهم من أجل ما جعل لهم في الخمس من سهم ذوي القربى. فلما انقطع ذلك عنهم ورجع إلى غيرهم  بموت رسول الله صلى الله عليه وسلم، حل لهم بذلك ما قد كان محرما عليهم من أجل ما قد كان أحل لهم.(شرح معاني الآثار، کتاب الزکوۃ، ‌‌باب الصدقة على بني هاشم، ج:2، ص:10)

قلت لو إضطروا إلی السؤال  لكان ذل أخذالزكوة أهون من ذل السؤال، علی أن الأوساخ ليست بأنجاس، فلو أفتی المفتي بنادر الرواية عند الضرورة لم يكن بعيدا عن الأصول.(منہاج السنن، ج:3، ص:169)


فتویٰ نمبر : 10911/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں