بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

ورثا کے لیے وصیت کرنا


سوال

باپ نے اپنی زندگی میں ایک سٹامپ  پیپر پر وصیت نامہ لکھ کر اپنے مال کا اکثر حصہ اپنے بیٹوں کے نام پر کر دیا، جبکہ اقل حصہ بیٹیوں کے نام کر دیا، اس وصیت میں بیوی کے لئے کوئی حصہ متعین نہیں کیا ہے تو کیا یہ وصیت نافذ ہوگی یا نہیں؟ اور تقسیم میراث وراثت کے  طریقے پر ہوگی  یا وصیت کے موافق ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ موصی (وصیت کرنے والا)  کی وصیت صرف ان لوگوں کے حق میں معتبر ہوگی جو  شرعا اس کے وارث نہ ہوں اگر موصی لہ(جس کے لئے  وصیت کی جاتی ہے ) پہلے سے وارث ہو تو اس کے  حق میں وصیت کرنا درست نہیں  البتہ اگر دیگر ورثا  اس وصیت کو نافذ کرنے پر راضی ہوں تو وہ وصیت نافذ ہوگی۔

 صورت مسئولہ میں باپ کا اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لئے وصیت کرنا درست نہیں، البتہ اگر تمام ورثا اس وصیت کو نافذ کرنے پر راضی ہو ں تو   پھر یہ وصیت نافذ ہوگی ورنہ  ہر وارث کو وہی حصہ ملے گا جو شریعت نے اس کے لئے مقرر کیا ہے۔

 

عن شرحبيل بن مسلم سمعت أبا أمامة ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الله قد ‌أعطى ‌كل ‌ذي ‌حق ‌حقه، ‌فلا ‌وصية ‌لوارث۔ (سنن أبي داود  ج:2، ص:48)

 (ومنها) أن ‌لا ‌يكون ‌وارث ‌الموصي وقت موت الموصي۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج:10، ص: 490 )

  (قال) أي القدوري (إلا أن يجيزها الورثة) هذا استثناء من قوله ولا تجوز الوصية لوارث إلا أن يجيزها الإيصاء للورثة، فحينئذ يصح. (البناية شرح الهداية،ج:12، ص: 497)   


فتویٰ نمبر : 3808/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں